گالف گیند کا فاصلہ محدود کرنے کے نئے قوانین مؤخر، اب 2030 میں نفاذ کا امکان

پیشہ ورانہ گالف میں گیند کے پرواز کرنے کا فاصلہ محدود کرنے کے منصوبے کو آر اینڈ اے اور یونائیٹڈ سٹیٹس گالف ایسوسی ایشن (یو ایس جی اے)نے فی الحال مؤخر کر دیا ہے اور اس مسئلے کے حل کے لئے دیگر آپشنز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔

نیویارک۔18جون (اے پی پی):پیشہ ورانہ گالف میں گیند کے پرواز کرنے کا فاصلہ محدود کرنے کے منصوبے کو آر اینڈ اے اور یونائیٹڈ سٹیٹس گالف ایسوسی ایشن (یو ایس جی اے)نے فی الحال مؤخر کر دیا ہے اور اس مسئلے کے حل کے لئے دیگر آپشنز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق گالف کی دنیا کے اہم سٹیک ہولڈرز بشمول صفِ اول کے ٹورز، کھلاڑیوں اور مینوفیکچررز کے درمیان اس معاملے پر تاحال اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔ گزشتہ 8 سالوں سے گورننگ باڈیز روری میک ایلروئے اور سکاٹی شیفلر جیسے جدید دور کے کھلاڑیوں کی جانب سے ٹی شاٹس کے ذریعے پیدا کیے جانے والے طویل فاصلے کو کم کرنے کے طریقے تلاش کر رہی تھیں۔

ابتدائی منصوبے کے تحت 2028 سے ٹاپ پروفیشنلز کے لئے ایسی گیندوں کا استعمال لازمی قرار دیا جانا تھا جو ان کے فاصلے کو تقریباً 15 گز تک کم کر دیتیں، جبکہ عام گالفرز کے لئے یہ تبدیلی 2030 میں نافذ ہونا تھی، تاہم اب حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایلیٹ گیم میں یہ تبدیلی 2030 سے پہلے نہیں ہوگی اور نئے قوانین بیک وقت پورے کھیل پر نافذ کیے جائیں گے۔ یو ایس جی اے کے چیف ایگزیکٹو مائیک وہان نے نیویارک کے شنیکاک ہلز میں یو ایس اوپن کے آغاز سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ 2028 کا منصوبہ ختم کر کے اب 2030 کو ہدف بنایا گیا ہے اور دیگر ممکنہ طریقوں پر فوری کام کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ منتظمین کا ماننا ہے کہ 350 گز تک پہنچنے والی طویل شاٹس کی وجہ سے تاریخی گالف کورسز اپنی اہمیت کھو رہے ہیں اور کھیل یکطرفہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ گالف کورسز کو بڑا کرنے سے اخراجات، پانی کے استعمال اور ماحولیاتی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر ایک قابلِ قبول حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

مزید خبریں