موثر پالیسی اور ٹیکنیکل ٹیم کے ذریعے وسائل کو بروئے کار لا کرمعیشت میں بڑا انقلاب لایا جا سکتا ہے ، پارلیمانی سیکرٹری مواصلات

پارلیمانی سیکرٹری مواصلات انجینئر گل اصغرخان نے کہا ہے کہ موثر پالیسی اور ٹیکنیکل ٹیم کے ذریعے وسائل کو بروئے کار لانے سے معیشت میں بڑا انقلاب لایا جا سکتا ہے، سرکاری اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):پارلیمانی سیکرٹری مواصلات انجینئر گل اصغرخان نے کہا ہے کہ موثر پالیسی اور ٹیکنیکل ٹیم کے ذریعے وسائل کو بروئے کار لانے سے معیشت میں بڑا انقلاب لایا جا سکتا ہے، سرکاری اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے انہوں نے کہاکہ موجودہ جنگ زدہ عالمی ماحول اور معاشی دباو کے باوجود حکومت کی معاشی ٹیم، ایس آئی ایف سی اور قومی اداروں کی قیادت خصوصاً فیلڈمارشل عاصم منیر کی قیادت خراجِ تحسین کے مستحق ہے، بجٹ میں کوشش کی گئی ہے کہ نیا کوئی بڑا ٹیکس نہ لگایا جائے اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دیا جائے۔ خاص طور پر 50 ہزار روپے تک آمدنی والوں پر انکم ٹیکس ختم کیا گیا ہے جبکہ ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی پر معمولی ٹیکس عائد کیا گیا ہے جو کہ ایک مثبت اقدام ہے۔

انہوں نے کہاکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر پاکستان کی معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے اور تقریباً 40 سے زائد صنعتیں اس سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس بجٹ میں اس شعبے پر ٹیکسز میں کمی کی گئی ہے جس سے تعمیراتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔ تعمیراتی صنعت چونکہ لیبر انٹینسیو ہے، اس لیے اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اسی طرح سیمنٹ، اسٹیل، ٹمبر، ٹائلز اور دیگر متعلقہ صنعتیں بھی فعال ہوں گی۔ برآمدات سے جڑی صنعتوں کے لیے بھی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اور سپر ٹیکس میں کمی ایک مثبت قدم ہے، جس سے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ انفراسٹرکچر کیلئے تقریباً 376 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ایم-6 موٹروے کامنصوبہ اہمیت کاحامل ہے یہ پشاور سے کراچی تک ملک کو جوڑنے والا ایک بنیادی منصوبہ ہے ،اس منصوبے کو مختلف سیکشنز میں تقسیم کر کے مالی بندوبست کیا گیا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شمولیت سے اس پر پیش رفت جاری ہے۔

یہ منصوبہ ملک کی معیشت، روزگار اور رابطہ کاری کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا کردار صرف تنقید تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے تعمیری تجاویز بھی دینی چاہئیں انہوں نے کہاکہ انرجی، انفراسٹرکچر، ایجوکیشن اور اسٹیٹ انٹرپرائزز کے شعبوں میں بہتری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ چین، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے ادارہ جاتی اصلاحات، ٹاسک فورسز اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی حاصل کی ۔ ہمیں بھی اسی طرز پر میرٹ، اصلاحات اور ٹیکنیکل مہارت کو ترجیح دینا ہوگی۔ سرکاری اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اسی طرح توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے بغیر برآمدات اور صنعتی ترقی ممکن نہیں۔ پاکستان قدرتی وسائل، خصوصا معدنیات میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔

اگر ایک موثر پالیسی اور ٹیکنیکل ٹیم کے ذریعے ان وسائل کو بروئے کار لایا جائے تو معیشت میں بڑا انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ زرعی شعبے میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر تھل جیسے علاقے، جو لاکھوں ایکڑ پر مشتمل ہیں، اگر انہیں مناسب سہولیات، پانی اور انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے تو یہ خطہ آرگینک فوڈ کامرکز بن سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ زرعی ویلیو ایڈیشن اور برانڈنگ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسان کو اس کی محنت کا براہِ راست فائدہ مل سکے اور بیچ کے نظام کا کردار کم ہو۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہاکہ پاکستان کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں، اصل ضرورت بہتر پالیسی، تسلسل اور مضبوط ادارہ جاتی اصلاحات کی ہے۔

 

مزید خبریں