چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایمپلائز ویلفیئر فنڈ کو مزید فعال، مؤثر اور وسعت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فنڈ میں رضاکارانہ شراکت کے فارم دوبارہ تمام اراکین کو ارسال کیے جائیں تاکہ جو اراکین اس فلاحی اقدام میں حصہ لینا چاہیں، وہ اپنی سہولت کے مطابق تعاون کر سکیں،وقت کے ساتھ اراکین اور سینیٹ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے، لہٰذا فنڈ کے …
سینیٹ ملازمین کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے ، ایمپلائز ویلفیئر فنڈ کے نظام اور مالی ڈھانچے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے،چیئرمین سینیٹ کا اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایمپلائز ویلفیئر فنڈ کو مزید فعال، مؤثر اور وسعت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فنڈ میں رضاکارانہ شراکت کے فارم دوبارہ تمام اراکین کو ارسال کیے جائیں تاکہ جو اراکین اس فلاحی اقدام میں حصہ لینا چاہیں، وہ اپنی سہولت کے مطابق تعاون کر سکیں،وقت کے ساتھ اراکین اور سینیٹ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے، لہٰذا فنڈ کے نظام اور مالی ڈھانچے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ملازمین اس سے مستفید ہو سکیں۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت ایوانِ بالا کی ایگزیکٹو کمیٹی برائے ایمپلائز ویلفیئر فنڈ کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر محمد عبدالقادر، سینیٹر ناصر محمود بٹ، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سینیٹ ایمپلائز ویلفیئر فنڈ 1990ء میں قائم کیا گیا تھا اور اس فنڈ میں حکومت کی جانب سے کوئی مالی معاونت حاصل نہیں کی جاتی۔ فنڈ مکمل طور پر سینیٹ اراکین اور سینیٹ ملازمین کی رضاکارانہ شراکت پر مشتمل ہے، جس کا مقصد گریڈ 1 تا 15 کے ملازمین کو شادی، وفات اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ہدایت کی کہ ویلفیئر فنڈ کو مزید فعال، مؤثر اور وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ رضاکارانہ شراکت کے فارم دوبارہ تمام اراکین کو ارسال کیے جائیں تاکہ جو اراکین اس فلاحی اقدام میں حصہ لینا چاہیں، وہ اپنی سہولت کے مطابق تعاون کر سکیں ۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وقت کے ساتھ اراکین اور سینیٹ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے، لہٰذا فنڈ کے نظام اور مالی ڈھانچے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ملازمین اس سے مستفید ہو سکیں۔سیکرٹری سینٹ سید حسنین حیدر نے ویلفیئر فنڈ سے متعلق پالیسی اور مالی معاونت کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ پارلیمانی سال کے دوران کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ متعدد اراکین کو فنڈ کے حوالے سے مکمل آگاہی نہیں، اس لیے تمام اراکین کو باقاعدہ خطوط اور فارم کے ذریعے اس فلاحی منصوبے سے متعلق آگاہ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ رضاکارانہ شراکت حاصل کی جا سکے۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے تجویز دی کہ ملازمین کے ویلفیئر نظام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے انشورنس کمپنیوں سے بھی مشاورت کی جائے اور ایک مؤثر و پائیدار فلاحی ماڈل تیار کیا جائے۔ویلفیئر نظام میں بہتری اور سفارشات مرتب کرنے کے لیے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، سینیٹر ناصر محمود بٹ اور سینیٹر عامر ولی الدین چشتی پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو اپنی سفارشات مرکزی کمیٹی کو پیش کرے گی۔اجلاس کے دوران سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے تجویز دی کہ دیگر سرکاری اداروں کی طرح سینیٹ ملازمین کو بھی حج کی سعادت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دو ملازمین کو حج پر بھیجنے کے لیے وہ ذاتی طور پر مالی تعاون کریں گے، جبکہ ویلفیئر فنڈ میں ہر ماہ اپنی تنخواہ سے ایک لاکھ روپے جمع کروانے کا بھی اعلان کیا۔
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں موبائل ایپلیکیشن کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے چیئرمین سینیٹ اور اجلاس کے شرکاء کو ایپلیکیشن کی تیاری، اس کی اہم خصوصیات اور پارلیمانی امور میں اس کے متوقع فوائد سے آگاہ کیا۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں سینیٹ سیکرٹریٹ نے سینیٹ اراکین کے لیے ایک جامع موبائل ایپلیکیشن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جو سینیٹ سیکرٹریٹ کے ٹیکنالوجی سے مثبت استفادے کے ایجنڈے میں ایک نمایاں سنگِ میل ثابت ہوگا۔یہ اقدام چیئرمین سینیٹ کے اُس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پارلیمانی ادارے کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ، مؤثر اور ماحول دوست بنایا جا رہا ہے۔ موبائل ایپلیکیشن کی تیاری سینیٹ سیکرٹریٹ کے اپنے وسائل اور پیشہ ورانہ مہارت سے عمل میں لائی گئی ہے، جو ادارے کے اختراع، خود انحصاری اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کے عزم کا مظہر ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر کہا کہ یہ اقدام سینیٹ سیکرٹریٹ میں ای آفس (E-Office) نظام کے فروغ کے وسیع تر مقصد کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن انتظامی استعداد میں اضافے، ادارہ جاتی شفافیت کے فروغ اور بروقت معلومات تک رسائی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل نظام کی جانب منتقلی سے کاغذ کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی، انتظامی تاخیر کم ہوگی اور ماحولیاتی پائیداری کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے اجلاس کو بتایا کہ یہ صارف دوست موبائل ایپلیکیشن سینیٹرز کو اپنے موبائل اوتکر ٹیب کے ذریعے پارلیمانی امور اور سرکاری معلومات تک محفوظ اور سہل رسائی فراہم کرے گی۔ ایپلیکیشن میں متعدد جدید اور منفرد سہولیات شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد ایوانِ بالا کے اراکین کے لیے رابطے، معلومات تک رسائی اور امور کی انجام دہی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
ایپلیکیشن کے ذریعے سینیٹرز کو سینیٹ اجلاسوں، قانون سازی سے متعلق امور، قائمہ کمیٹیوں کی معلومات، سرکاری نوٹیفکیشنز، پارلیمانی دستاویزات، شیڈول اور دیگر اہم معلومات تک فوری رسائی حاصل ہوگی۔ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی تیاری میں استعمال میں آسانی، سیکیورٹی اور رسائی کے مؤثر نظام کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ اراکین کو ایک مؤثر سہولت میسر ہو سکے۔چیئرمین سینیٹ نے ایپلیکیشن کی تیاری میں شامل سینیٹ سیکرٹریٹ کے افسران اور تکنیکی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار سینیٹ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے وقت اور وسائل کی بچت ہوگی جبکہ ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی خدمت کے معیار میں مزید بہتری آئے گی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سینیٹ موبائل ایپلیکیشن کی باضابطہ افتتاحی تقریب مستقبل قریب میں منعقد کی جائے گی۔ افتتاح کے بعد سینیٹرز کے لیے ایک جامع تربیتی اور آگاہی سیشن بھی منعقد کیا جائے گا تاکہ وہ ایپلیکیشن کی تمام خصوصیات سے مؤثر انداز میں استفادہ کر سکیں۔چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی نظام میں جدید طرزِ حکمرانی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ سیکرٹریٹ بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے جدت، ٹیکنالوجی اور پائیدار انتظامی اقدامات کو اپنانے کا سفر جاری رکھے گا۔








