بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر منظور احمد نے کہا ہے کہ قانون سازی اور پالیسی سازی میں تمام اراکین پارلیمان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور اجتماعی احتساب کے ذریعے بہتری لانا ہوگی، ہماری اصل توجہ اس امر پر ہونی چاہیے کہ ملک کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کس طرح بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں
قانون سازی اور پالیسی سازی میں تمام اراکین پارلیمان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، اجتماعی احتساب کے ذریعے بہتری لانا ہوگی، سینیٹر منظور احمد

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر منظور احمد نے کہا ہے کہ قانون سازی اور پالیسی سازی میں تمام اراکین پارلیمان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور اجتماعی احتساب کے ذریعے بہتری لانا ہوگی، ہماری اصل توجہ اس امر پر ہونی چاہیے کہ ملک کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کس طرح بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ جمعرات کو سینیٹ میں وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک بنیادی سماجی معاہدہ موجود ہے جس کے تحت ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے جبکہ عوام ٹیکسوں کی ادائیگی کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں تاہم انہیں مطلوبہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ سینیٹر منظور احمد نے کہا کہ قانون سازی اور پالیسی سازی میں تمام اراکین پارلیمان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور اجتماعی احتساب کے ذریعے بہتری لانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اصل توجہ اس امر پر ہونی چاہیے کہ ملک کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کس طرح بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے تعلیم، صحت اور معیشت کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک نے علم پر مبنی معیشت کے ذریعے ترقی حاصل کی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی اسی سمت میں پیش رفت کرنا ہوگی۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو عوام دوست اور کاروبار کے لیے سازگار بنایا جائے تاکہ مقامی صنعت اور سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔سینیٹر منظور احمد نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی میں اضافے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے، انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے بلوچستان میں امن و امان، بے روزگاری اور ترقیاتی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات اور تمام فریقین کے درمیان بات چیت کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل مکالمے اور افہام و تفہیم میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کے باوجود قومی یکجہتی اور اتفاق رائے کے ذریعے ہی ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔








