وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے کے بعد پائیدار ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور جاری مالی سال کے دوران ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو گزشتہ سال کے 3.1 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے
پاکستان کی معیشت میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے کے بعد پائیدار ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ، سینیٹر محمد اورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے کے بعد پائیدار ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور جاری مالی سال کے دوران ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو گزشتہ سال کے 3.1 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔جمعرات کو سینیٹ میں وفاقی بجٹ 27-2026 پر بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ارکان پارلیمنٹ، کاروباری تنظیموں، چیمبرز آف کامرس اور دیگر شراکت داروں کی تجاویز اور مشاورت کو سراہا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے معاشی استحکام سے ترقی کی جانب کامیاب منتقلی کی ہے جبکہ تقریباً تین سال قبل معیشت سکڑاؤ کا شکار تھی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی اور عالمی چیلنجز کے باوجود اہم معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے اور اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ دستاویزی کارپوریٹ شعبے اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ برآمد کنندگان پر عائد سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ سپر ٹیکس کی پہلی چھ شرحیں بھی ختم کر دی گئی ہیں اور زیادہ آمدنی والے طبقات کے لئے شرحوں میں کمی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو کم ٹیکس شرحوں اور آمدنی کے سلیب میں توسیع کے ذریعے ریلیف فراہم کیا گیا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح کا اطلاق اب زیادہ آمدنی کی حد پر ہوگا۔آئی ٹی شعبے کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد فکسڈ ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ فری لانسرز کی برآمدات کا حجم تقریباً 1.6 ارب ڈالر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل رابطوں، مہارتوں کی ترقی اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور بلاک چین سمیت جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کی جا سکیں اور برآمدات میں اضافہ ہو۔وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت رعایتی قرضے فراہم کرنے کے لئے 300 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید زرعی مشینری، ہارویسٹرز اور ٹریکٹرز پر عائد ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں میں کمی یا انہیں ختم کیا گیا ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت 110 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ کاروباری سرگرمیوں، مہارتوں کی ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بڑے پیمانے پر اصلاحات جاری ہیں جن کا مقصد ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کے ذریعے انسانی مداخلت کم کرنا، بدعنوانی کا خاتمہ اور ٹیکس دہندگان کو ہراسانی سے بچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی خود انحصاری کے حصول اور بیرونی مالی معاونت پر انحصار کم کرنے کے لئے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ناگزیر ہے، بہتر مالی نظم و نسق کے باعث حکومت کی داخلی وسائل کے ذریعے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے سینیٹرز کی تجاویز اور آراء پر ان کا شکریہ ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ملک کی معاشی ترقی کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تعمیری تجاویز کو قلیل اور درمیانی مدت کی پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا۔








