سعودی عرب سمیت اسلامی اور عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف مسلسل اور بڑھتے ہوئے آباد کاروں کے تشدد کی مذمت کی ہے۔العربیہ کے مطابق مشترکہ بیان میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے سمیت رام اللہ کے شمال میں واقع گاؤں مزارع النوبانی کی الفاروق مسجد اور قریہ جلجیلیا کی جامع …
سعودی عرب سمیت اسلامی وزرائے خارجہ کی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کی مذمت

مزید خبریں
ریاض ۔19جون (اے پی پی):سعودی عرب سمیت اسلامی اور عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف مسلسل اور بڑھتے ہوئے آباد کاروں کے تشدد کی مذمت کی ہے۔العربیہ کے مطابق مشترکہ بیان میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے سمیت رام اللہ کے شمال میں واقع گاؤں مزارع النوبانی کی الفاروق مسجد اور قریہ جلجیلیا کی جامع مسجد پر حالیہ حملے کی شدید مذمت کی۔وزرائے خارجہ نے اسے عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات کے تقدس، بین الاقوامی قوانین، انٹرنیشنل ہیومنٹیرین لا اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی آباد کاروں کے ان افسوسناک حملوں کے ساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں مسلسل غیر قانونی اسرائیلی اقدامات، جو عدم استحکام، تشدد اور انتہا پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور امن کے حصول کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو سبوتاژ کرنے، کو مکمل طور پر مسترد کیا۔مشترکہ بیان میں ان حملوں کا ذمہ دار قابض طاقت اسرائیل کو ٹھہرایا گیا۔ بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک حد تک بڑھنے سے روکنے، اس کے غیر قانونی طریقوں کو ختم کرنے، آباد کاروں کے تشدد کو روکنے کے ساتھ ان جرائم کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی، ان کے جائز حقوق کے حصول کے لیے سپورٹ کا اعادہ کیا، ان میں سب سے اہم حق خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہےِ، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔مشترکہ بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عرب امن اقدام کے مطابق دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے حصول کے لیے تمام کوششوں کے لیے سپورٹ کا بھی اعادہ کیا گیا۔








