امریکا کا جرمنی کے خلاف سیکشن 301 کے تحت تحقیقات کا آغاز

امریکانے جرمنی کے خلاف سیکشن 301 کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا۔شنہوا کے مطابق امریکاکے تجارتی نمائندے کے دفتر (یوایس ٹی آر ) نے جرمنی کے خلاف 1974 کے تجارتی قانون کے سیکشن 301 کے تحت باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تحقیقات کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا جرمنی کی جانب سے جدید ادویات کی قیمتوں اور ادائیگیوں سے متعلق پالیسیاں غیرمنصفانہ یا امتیازی نوعیت کی ہیں …

نیویارک ۔19جون (اے پی پی):امریکانے جرمنی کے خلاف سیکشن 301 کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا۔شنہوا کے مطابق امریکاکے تجارتی نمائندے کے دفتر (یوایس ٹی آر ) نے جرمنی کے خلاف 1974 کے تجارتی قانون کے سیکشن 301 کے تحت باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تحقیقات کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا جرمنی کی جانب سے جدید ادویات کی قیمتوں اور ادائیگیوں سے متعلق پالیسیاں غیرمنصفانہ یا امتیازی نوعیت کی ہیں اور کیا وہ امریکی تجارت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے آغاز سے قبل امریکہ اور جرمنی کے درمیان کئی ماہ تک اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات جاری رہے، تاہم کوئی حتمی پیش رفت نہ ہو سکی۔امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ امریکی مریضوں کو عالمی سطح پر دواسازی کی تحقیق اور ترقی کے اخراجات کا غیرمتناسب بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے جرمنی میں ایسی قانون سازی پر تشویش کا اظہار کیا جس کے تحت جدید ادویات پر اخراجات میں مزید کمی کی جا سکتی ہے۔

گریر کے مطابق جرمنی کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں "سنگین پسپائی” ہے جب تجارتی شراکت داروں کو جدید ادویات کی تحقیق اور ترقی کے لیے اپنے حصے کی مناسب مالی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال 2 اپریل کو امریکہ اور برطانیہ نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق ایک انتظام پر اتفاق کیا تھا جس سے دونوں ممالک میں سرمایہ کاری اور جدت طرازی کو فروغ ملے گا، اور جرمنی کو بھی اس عدم توازن کے حل کے لیے تعمیری مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ 1974 کے تجارتی قانون کا سیکشن 301 امریکی تجارت کو متاثر کرنے والے غیرمنصفانہ غیرملکی تجارتی اقدامات کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔