اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے سوڈان کی ریاست شمالی کردفان کے شہر الابیض کے اطراف فوجی نقل و حرکت اور عسکری سرگرمیوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے شہر پر ممکنہ زمینی حملے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
سوڈان کے شہر الابیض کے گرد فوجی نقل و حرکت پر اقوام متحدہ کو تشویش

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔19جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے سوڈان کی ریاست شمالی کردفان کے شہر الابیض کے اطراف فوجی نقل و حرکت اور عسکری سرگرمیوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے شہر پر ممکنہ زمینی حملے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکریٹری جنرل خاص طور پر ان اطلاعات پر فکرمند ہیں جن کے مطابق ریپڈ سپورٹ فورسز نے الابیض کے گرد بڑی تعداد میں فوجی کمک تعینات کی ہے، جو ممکنہ طور پر شہر پر جلد زمینی کارروائی کا اشارہ ہو سکتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا حملہ کیا گیا تو سوڈان کا ایک اور بڑا آبادیاتی مرکز وسیع پیمانے پر تشدد اور انسانی بحران کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے بااثر ممالک اور فریقین پر زور دیا کہ وہ مزید خونریزی روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ترجمان کے مطابق عالمی برادری کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ گزشتہ سال ریاست شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر میں پیش آنے والے المناک واقعات الابیض میں دوبارہ نہ دہرائے جائیں۔ یاد رہے کہ 2025 میں ال فاشر کے محاصرے اور قبضے کے دوران شہریوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی اور تنازع کے سیاسی حل کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں میں تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ امدادی کارکنوں اور امدادی سامان کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنائی جائے، جبکہ انسانی امدادی سرگرمیوں کو مکمل تحفظ اور سہولت فراہم کی جائے۔ شہریوں کو محفوظ طریقے سے شہر چھوڑنے کی اجازت دی جائے اور جو لوگ وہاں رہنے کا انتخاب کریں، انہیں تحفظ اور ضروری امداد تک رسائی فراہم کی جائے۔








