بین سٹوکس تیسرے ٹیسٹ میں دوبارہ انگلینڈ کی قیادت سنبھال سکتے ہیں

انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس آئندہ ہفتے نیوزی لینڈ کے خلاف ناٹنگھم میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں دوبارہ ٹیم کی قیادت کرتے نظر آ سکتے ہیں

لندن۔19جون (اے پی پی):انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس آئندہ ہفتے نیوزی لینڈ کے خلاف ناٹنگھم میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں دوبارہ ٹیم کی قیادت کرتے نظر آ سکتے ہیں، کیونکہ ان کے خلاف جاری تحقیقات اختتامی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔بی بی سی کے مطابقبین سٹوکس اور فاسٹ بولر گس اٹکنسن لندن کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے کے باعث تحقیقات کی زد میں ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں نے انگلینڈ ٹیم کی مقررہ آدھی رات کی کرفیو پالیسی کی خلاف ورزی کی تھی، جس کے بعد انہیں دوسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم سے باہر رکھا گیا تھا۔اطلاعات کے مطابق تحقیقات میں پیش رفت کے بعد دونوں کھلاڑیوں کی واپسی کی راہ ہموار ہو رہی ہے، تاہم باضابطہ اعلان اوول میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے اختتام کے بعد متوقع ہے۔بین سٹوکس اور گس اٹکنسن کو اگرچہ قومی ٹیم کے لیے کھیلنے سے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، لیکن وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے اہل ہیں۔ بین سٹوکس ڈرہم کی جانب سے کاؤنٹی چیمپئن شپ میچ کے لئے سکواڈ میں شامل ہیں جبکہ اٹکنسن سرے کی نمائندگی کریں گے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے 8 جون کو جاری بیان میں تصدیق کی تھی کہ دونوں کھلاڑیوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس واقعے کے بعد بین سٹوکس کی ممکنہ ریٹائرمنٹ کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں، تاہم گزشتہ ہفتے ڈرہم کے ساتھ ان کی ٹریننگ میں واپسی کے بعد یہ خدشات کم ہو گئے۔نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں جو روٹ عبوری کپتان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر امکان بڑھ گیا ہے کہ 25 جون سے ٹرینٹ برج میں شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میں بین سٹوکس دوبارہ انگلینڈ کی قیادت کرتے دکھائی دیں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بین سٹوکس کی واپسی ٹرینٹ برج میں ہوتی ہے تو یہ ان کے کیریئر کا ایک منفرد دائرہ مکمل ہونے جیسا ہوگا، کیونکہ 2018 میں برسٹل کے ایک نائٹ کلب کے باہر پیش آنے والے واقعے میں بری ہونے کے بعد انہوں نے اپنا اگلا ٹیسٹ بھی ٹرینٹ برج ہی میں کھیلا تھا۔