صوبے کا کل بجٹ تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے، نام ‘خوشحال پختونخوا’ رکھا گیا ہے، مشیر خزانہ مزمل اسلم کی پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ

صوبے کا کل بجٹ تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے، نام ‘خوشحال پختونخوا’ رکھا گیا ہے، مشیر خزانہ مزمل اسلم کی پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ

پشاور۔ 20 جون (اے پی پی):مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبے کا کل بجٹ تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے جس کا نام ’خوشحال پختونخوا‘ رکھا گیا ہے۔ ہفتہ کو پشاور میں صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے ہمراہ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی بجٹ کے اہم خدوخال اور وفاق کے ساتھ جاری مالیاتی امور کی تفصیلات پر گفتگو کی۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے واضح کیا کہ صوبے کا کل بجٹ تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے جس کا نام ’خوشحال پختونخوا‘ رکھا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال صوبائی محصولات کا 129 ارب روپے کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ نئے مالی سال میں ٹیکسوں میں مزید کمی لائی گئی ہے جس میں آن لائن ہوٹل بکنگ پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوامی فلاح اور اہم شعبوں کو ترجیح دیتے ہوئے کل حجم کا 55 فیصد حصہ تعلیم، صحت اور محکمہ داخلہ کے لیے مختص کیا گیا ہے جبکہ 58 فیصد حصہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں خرچ ہوگا، صوبائی حکومت نے صحت کارڈ کےلیے 50 ارب روپے، احساس مستحقین کےلیے 15 ارب روپے اور پولیس کے آلات کی خریداری کے لیے 14 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور میں 50 کروڑ روپے کی لاگت سے فری وائی فائی سروس کے آغاز، ای بائیکس اور ای رکشہ اسکیموں سمیت گڈ گورننس روڈ میپ کےلیے 16.5 ارب روپے رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ بیرون ملک تعلیم اور روزگار کےلیے جانے والوں کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

مشیر خزانہ نے اس بیان کی تردید کی کہ چاروں صوبے وفاق کو پیسے دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل اکنامکس کونسل کے ایجنڈے میں ایسا کوئی فیصلہ شامل نہیں تھا اور نہ ہی یہ ایسا فیصلہ کرنے کا مجاز فورم ہے۔ مزمل اسلم کا کہنا تھا صوبے نے کسی مزاحمتی حکمت عملی کے تحت بجٹ تیار نہیں کیا۔ مشیر خزانہ نے ضم شدہ اضلاع کے مالیاتی بحران کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان اضلاع کے بجٹ میں 121 ارب روپے کا خسارہ ہے۔ وفاق نے ضم اضلاع کے جاری اخراجات کےلیے 95 ارب روپے جاری کیے ہیں جبکہ ان کا اصل خرچہ 185 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ سال مختص کردہ 66 ارب روپے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے سرکاری ملازمین کے حوالے سے بتایا کہ دوسرے صوبوں کے برعکس خیبر پختونخوا میں کسی ملازم نے احتجاج نہیں کیا۔ پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے اپنی پارٹی کے اندرونی معاملات پر بھی بات کی اور کہا کہ سخت مزاج ہونے کی وجہ سے پارٹی کے کچھ دوست انہیں ناپسند کرتے ہیں جبکہ بجٹ کے فیصلوں پر پارٹی میں پیدا ہونے والی غلط فہمیاں بھی اب دور کی جا رہی ہیں۔

مزید خبریں