وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی بجٹ کے حوالے سے پیپلز پارٹی سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا، گورنر فیصل کریم کنڈی
وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی بجٹ کے حوالے سے پیپلز پارٹی سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا، گورنر فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
پشاور۔ 20 جون (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی بجٹ کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی بجٹ سپورٹ مانگی ہے، مستقبل میں صوبائی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا رابطہ کیا جاتا ہے تو اس بارے میں فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مشاورت سے کیا جائے گا، پی ٹی آئی کے مسلسل 13 سا لہ دور حکومت میں عوام کو نہ روزگار ملا، نہ رہائش اور نہ ہی پائیدار امن و امان قائم کیا جا سکا، صوبے میں کرپشن انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ٹرانسفر و پوسٹنگ کی لین دین فٹ پاتھوں پر ہو رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نوشہرہ کی تحصیل پبی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا، ڈویژنل جنرل سیکرٹری میاں راشد علی شاہ کاکاخیل، ضلعی صدر ادریس خان خٹک اور ضلعی جنرل سیکرٹری فلک نیاز نے بھی خطاب کیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بجٹ سے متعلق نہ وزیراعلیٰ نے ان سے رابطہ کیا اور نہ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سے کوئی مشاورت کی گئی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے بجٹ کی حمایت کے بدلے مالی یا سیاسی فوائد حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں صوبائی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا رابطہ کیا جاتا ہے تو اس بارے میں فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے کسی فرد کو انفرادی طور پر ایسے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئندہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں کنونشنز کا انعقاد کرے گی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پیغام گھر گھر پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بلاول بھٹو زرداری ملک کے وزیراعظم جبکہ پیپلز پارٹی کا ایک کارکن خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ بنے گا۔ گورنر خیبر پختونخوا نےکہا کہ میڈیا کو چاہیے کہ وہ صوبائی حکومت سے یہ سوال بھی کرے کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی، بے روزگاری اور کرپشن کے مسائل کیوں بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دو ماہ تک سی این جی بند رہی لیکن صوبائی حکومت اس مسئلے کے حل میں ناکام رہی اور انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کو ایک مشترکہ موقف اختیار کرکے وفاق سے صوبے کے حقوق کا مطالبہ کرنے کی دعوت دی جس کے بعد سی این جی کی فراہمی بحال ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جانب سے گندم کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باوجود صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا کی بجلی، گیس اور معدنی وسائل پورا ملک استعمال کر رہا ہے لیکن صوبائی حکومت وفاق سے اپنے حقوق لینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر وفاق صوبے کو اس کا جائز حق نہیں دیتا تو صوبائی حکومت کو مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کمزور قیادت کے باعث ہی خیبر پختونخوا کو مسائل کا سامنا ہے۔ گورنر نے کہا کہ پولیس، ایف سی اور دیگر سکیورٹی ادارے صوبے میں امن کے قیام کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں تاہم خیبر پختونخوا پولیس کو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم تنخواہیں دی جا رہی ہیں، پختونخوا میں پولیس کو وہی تنخواہیں دے جو دوسرے صوبے میں دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان چار سال تک ملک کے وزیراعظم رہے، اس دوران انہوں نے خیبر پختونخوا کے لیے کیا اقدامات کیے، اس کا جواب عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج صوبائی حکومت وفاق سے حقوق نہ ملنے کا شکوہ کر رہی ہے حالانکہ ماضی میں اسے اپنے صوبے کے مسائل حل کرنے کے مواقع میسر تھے۔








