ٹیرف اصلاحات کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے، نادہندہ آئل مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سےلیوی کی تیس دن تک ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی خودکار طور پر معطل کر دی جائے، قائمہ کمیٹی برائے خزانہ
ٹیرف اصلاحات کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے، نادہندہ آئل مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سےلیوی کی تیس دن تک ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی خودکار طور پر معطل کر دی جائے، قائمہ کمیٹی برائے خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے سفارش کی کہ ٹیرف اصلاحات کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے، ان کے اثرات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، نیشنل ٹیرف کمیشن وقتا فوقتا پیش رفت سے آگاہ کرے اور اہم قومی صنعتوں کے تحفظ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ اصلاحات پائیدار صنعتی ترقی اور قومی اقتصادی مفادات کے فروغ کا ذریعہ بن سکیں، کمیٹی نے نادہندہ آئل مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سے لیوی کی تیس دن تک ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں اس کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی خودکار طور پر معطل کر نے کی بھی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کااجلاس ہفتہ کویہاں چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں فنانس بل 2026 پر شق وار غور و خوض کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
کمیٹی نے بجٹ تجاویز کے باقی ماندہ حصے کا تفصیلی جائزہ لیا اور وزارتِ تجارت، نیشنل ٹیرف کمیشن ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، پٹرولیم ڈویژن اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سے قومی ٹیرف پالیسی، اسلام آباد میں موٹر گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس ،پیٹرولیم مصنوعات پیٹرولیم لیوی میں مجوزہ ترامیم سے متعلق تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ کمیٹی کو قومی ٹیرف پالیسی (2025-2030) کے دوسرے مرحلے کے تحت مجوزہ اصلاحات پر جامع بریفنگ دی گئی، جن کا مقصد پاکستان کے ٹیرف ڈھانچے کو سادہ بنانا، مجموعی ٹیرف بوجھ میں کمی لانا، ملکی صنعت کی مسابقت بڑھانا، برآمدات کو فروغ دینا اور ٹیرف نظام کو بین الاقوامی بہترین روایات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ مجوزہ اصلاحات میں کسٹمز ڈیوٹی، اضافی کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور پانچویں شیڈول کے تحت دی گئی مختلف چھوٹوں کو معقول بنانا شامل ہے۔ اس ضمن میں ہزاروں ٹیرف لائنوں پر ڈیوٹی میں کمی اور غیر ضروری استثنائی اندراجات کے خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں مجموعی اوسط ٹیرف میں کمی آئے گی جبکہ اس کے باعث تقریبا 143.4 ارب روپے کے محصولات پر اثرات مرتب ہونے کا تخمینہ ہے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے رائے دی کہ ٹیرف میں نرمی کا عمل متوازن اور مرحلہ وار انداز میں نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ ایک جانب ملکی صنعت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور دوسری جانب مسابقت اور برآمدات کو فروغ ملے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کم ٹیرف کا حقیقی فائدہ پیداواری لاگت میں کمی، صارفین کو مناسب قیمتوں پر اشیا کی فراہمی اور مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن کی صورت میں سامنے آنا چاہیے، نہ کہ صرف درآمد کنندگان تک محدود رہے۔چیئرمین نے شفافیت اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ تمام مالیاتی تجاویز کے ساتھ محصولات پر ان کے متوقع اثرات کا جامع تخمینہ بھی پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس عائد کرنے کا ہر اقدام واضح معاشی مقصد کا حامل ہونا چاہیے اور اسے محض محصولات اکٹھا کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
کمیٹی کے اراکین نے ٹیرف میں مجوزہ کمی کے ملکی صنعت، حکومتی محصولات، روزگار اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق پابندیوں میں نرمی کے ممکنہ اثرات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا،کمیٹی نے ماحولیاتی طور پر نقصان دہ درآمدات، خصوصا کٹے ہوئے ٹائروں پر ٹیرف میں رعایت دینے کی سخت مخالفت کی۔ اراکین کا موقف تھا کہ ایسی رعایتیں پاکستان کے ماحولیاتی وعدوں سے متصادم ہیں اور مقامی ری سائیکلنگ صنعت کو نقصان پہنچائیں گی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ٹیرف اصلاحات کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے، ان کے اثرات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، نیشنل ٹیرف کمیشن وقتا فوقتا پیش رفت سے آگاہ کرے اور اہم قومی صنعتوں کے تحفظ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ اصلاحات پائیدار صنعتی ترقی اور قومی اقتصادی مفادات کے فروغ کا ذریعہ بن سکیں۔ کمیٹی نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں موٹر گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کے مجوزہ نئے نظام کا بھی جائزہ لیا۔ اراکین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ نجی گاڑیوں، خصوصا 1300 سی سی سے 1800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے مقررہ شرح کے بجائے انوائس ویلیو کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے سے متوسط آمدنی والے طبقے پر غیر متناسب مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
چیئرمین نے زور دیا کہ ٹوکن ٹیکس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی شفاف، منصفانہ اور گاڑی کی مالیت کے تناسب سے ہونی چاہیے تاکہ عام شہریوں پر غیر ضروری مالی دبا ئونہ پڑے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ مجوزہ نظام کو نافذ کرنے سے قبل اس کے اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے اور متعلقہ فریقوں سے مناسب مشاورت کی جائے تاکہ یہ نظام صوبائی ٹیکس ڈھانچوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کے لیے بھی قابل برداشت رہے۔ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات ،یٹرولیم لیوی آرڈیننس 1961 میں مجوزہ ترامیم خصوصا ان آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف موثر کارروائی کے حوالے سے واجب الادا پیٹرولیم لیوی بروقت جمع نہ کرانے سے متعلق امورکا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ چیئرمین نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں محض حکومتی محصولات وصول کرنے کا ذریعہ ہیں، لہذا انہیں عوامی رقوم اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی کہ قانون میں ایسا موثر اور لازمی نفاذی نظام شامل کیا جائے جس کے تحت کسی بھی نادہندہ آئل مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سے تیس دن تک ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں اس کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی خودکار طور پر معطل کر دی جائے، جبکہ رعایت، مدت میں توسیع یا اقساط کی سہولت جیسے اختیارات ختم کیے جائیں تاکہ قانون پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ پیٹرولیم لیوی کی ادائیگی کو ریگولیٹری نفاذی اقدامات سے منسلک کیا جائے تاکہ قومی محصولات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ چیئرمین نے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ مجوزہ قانونی ترامیم کو ازسرنو مرتب کیا جائے تاکہ نادہندہ کمپنیوں کے لیے اقساط کی سہولت کا خاتمہ اور مصنوعات کی فراہمی کی فوری معطلی کو واضح طور پر قانون کا حصہ بنایا جا سکے
اجلاس میں ارکانِ قومی اسمبلی رانا ارادت شریف خان، علی زاہد، سید سمیع الحسن گیلانی،بلال فاروق تارڑ، محمد عثمان اویسی، زیب جعفر، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا اور ہ شاہدہ بیگم نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹرمحمداورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہرکیانی، سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال، سیکرٹری ہوا بازی، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اراکین، اور وزارتِ خزانہ، ایف بی آر سمیت متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔








