بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی اتوار سے 135 مطالباتِ زر پر بحث کا آغاز کرے گی، 9,126 ارب روپے سے زائد کے اخراجات کی حتمی منظوری متوقع
بجٹ اجلاس: قومی اسمبلی اتوار سے 135 مطالباتِ زر پر بحث کا آغاز کرے گی، 9,126 ارب روپے سے زائد کے اخراجات کی حتمی منظوری متوقع
خرم شہزاد
اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے قومی اسمبلی کا اہم ترین اجلاس کل (اتوار)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی محکموں کے جاری و ترقیاتی اخراجات کی منظوری کے لیے مجموعی طور پر 135 مطالباتِ زر (ڈیمانڈز فار گرانٹس) پیش کریں گے۔
قومی اسمبلی سے 30 جون 2027ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مطالبات زر کی منظوری حاصل کی جائے گی۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری بجٹ اجلاس ایجنڈے کے مطابق رواں سال وفاقی حکومت کی بنیادی ترجیحات میں ملکی دفاع، سماجی تحفظ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود شامل ہے۔
ایوان میں پیش کیے جانے والے مطالباتِ زر میں سب سے اہم فوکس دفاعی خدمات، الاؤنسز کہن سالی و پنشن اور گرانٹس پر رکھا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شعبہ بجلی اور پٹرولیم کے جاری و ترقیاتی منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے۔
عوامی ریلیف اور غریب پرور منصوبوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال کے اخراجات کو بھی ایوانِ زیریں سے منظور کروایا جائے گا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مروجہ قواعد کے تحت اس بحث کے دوران اپوزیشن بینچوں کی طرف سے وزارتوں کی کارکردگی پر تنقید اور تحریکاتِ تخفیف بھی پیش کی جائیں گی، جس کے بعد رائے دہی کے ذریعے تمام ڈیمانڈز کی حتمی منظوری دی جائے گی۔








