قومی اسمبلی نے وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کے 33.70ارب روپے کے تین مطالبات زرکی منظوری دیدی
قومی اسمبلی نے وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کے 33.70ارب روپے کے تین مطالبات زرکی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کے 33.70ارب روپے کے تین مطالبات زرکی منظوری دیدی، ایوان نے اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 112 تحاریک کو مسترد کر دیا۔ پیر کو قومی اسمبلی میں کٹوتی کی تحاریک پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زرعی شعبے کو ترجیح دی ہے اور ان کا یہ یقین ہے کہ ہمارا زرعی شعبہ ملکی معیشت کو مختصر مدت میں زیادہ فائدہ دے سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ زراعت صوبائی سبجیکٹ ہے تاہم وفاق فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کررہا ہے ، وفاقی سطح پر پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اور دیگر ادارے قائم ہیں جبکہ صوبوں میں بھی زرعی تحقیق کے ادارے موجود ہیں۔
زرعی شعبے کا درد ہم محسوس کر سکتے ہیں اور اس کے ازالے کیلئے جامع اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت کی مثالیں دی جاتی ہیں تاہم پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلاب کے چیلنجوں کے باوجود محدود وسائل کے ساتھ زرعی شعبے کیلئے جو اقدامات کئے ہیں وہ مثالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی بحران میں پاکستان فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے سب سے محفوظ ملک تھا بحران کے دوران پاکستان نے رسد اور قیمتوں کی نگرانی کے ذریعے قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے بے شمار اقدامات کئے گئے ہیں اس شعبے کی میکنائزیشن ہماری ترجیح ہے، پنجاب میں 25 ہزار ٹریکٹرز پر 10 لاکھ روپے کی سبسڈی دی گئی ہے جبکہ 10 ہزار ٹریکٹر کسانوں میں مفت تقسیم کئے گئے ہیں، کسان کارڈ سے 8 لاکھ کسانوں کو سود کے بغیر کھادیں اور بیجز کی خریداری کی سہولت فراہم کی گئی ہے، اس سکیم میں ریکوری کی شرح 86 فیصد ہے کیونکہ اس کا سود حکومت ادا کررہی ہے۔
ہارویسٹرز میں بھی سبسڈی دی جا رہی ہے، اسی طرح سندھ میں بھی زرعی مداخل پر 52 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی۔ آئندہ مالی سال کے دوران صوبے زرعی ترقی پر 200 ارب روپے سے زائد خرچ کر رہے ہیں جن میں 100 ارب پنجاب کے شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے زرعی مشینری پر ڈیوٹی صفر کر دی ہے۔ ٹرانسفرآف ٹیکنالوجی کے حوالے سے چین، برازیل اور آسٹریلیا کے ساتھ معاہدے ہو رہے ہیں، پوسٹ ہارویسٹ نقصانات کو کم کرنے کیلئے بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، پنجاب میں کئی زمینداروں نے فی ایکڑ 60 ایکڑ گندم کی پیداوار بھی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ہماری زراعت اور فوڈ سکیورٹی کیلئے سب سے زیادہ خطرہ ہیں، پاکستان کا زرعی شعبہ اس سے زیادہ متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈیشن اور سٹوریج کے مسائل پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، سٹوریج کیلئے چینی کمپنی سے رابطہ ہوا ہے، زرعی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے زرخیز ای کے نام سے بھی پروگرام شروع کیا ہے جس میں کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ بیجوں کے حوالے سے بھی اقدامات جاری ہیں۔ ہائبرڈ بیج کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے۔ کاٹن بورڈ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں کوئی سرکاری عہدیدار شامل نہیں ہو گا اور اس کے امور اپٹما دیکھے گی۔ اسی طرح کیڑے مار ادویات کے حوالے سے بھی کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں زیتون کی پیداوار میں اضافے کیلئے فلیگ شپ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ بلوچستان ، پوٹھوہار، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں اس حوالے سے بہت کام ہوا ہے پاکستان پہلی مرتبہ انٹرنیشنل اولیو کونسل کا رکن بنا ہے، نیویارک میں زیتون کے معیار کے بین الاقوامی مقابلے میں پاکستان نے سلور جبکہ لندن میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ وزیراعظم نے بھی زیتون کی کاشت میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھجور کی فصل کے حوالے سے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
ویلیو ایڈیشن اور پیکیجنگ میں بڑی استعداد موجود ہے۔ یو اے ای کی ایک فائونڈیشن سے بھی رابطہ کیا گیا ہے انہوں نے تین پلانٹ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ قبل ازیں کٹوتی کی تحاریک پربحث کا آغاز کرتے ہوئے محمد اسلم گھمن نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تعلیم وتریبت کی فراہمی ضروری ہے، یونیورسٹی آف سمبڑیال کیلئے فنڈز جاری کئے جائیں، صحت اور تعلیم کیلئے جی ڈی پی کی شرح سے وسائل میں اضافہ کیا جائے۔ غوث محمد نے کہاکہ زراعت کو ترقی دینے سے پاکستان آئی ایم ایف سے چھٹکارا پا سکتا ہے، زرعی ملک ہونے کے باوجود موثر زرعی پالیسی نہیں بنائی جا سکی، کاٹن کی پیداوارمیں بڑی کمی آئی ہے، ریسرچ اداروں کو بند کرنے سے کسانوں کو جدید بیجوں کی فراہمی میں مشکلات پیش آرہی ہے۔
عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کوغذائی تحفظ کے حوالہ سے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے، پاکستان بنیادی زرعی اشیا کی درآمدات پر بھاری زرمبادلہ خرچ کر رہا ہے، پالیسیوں کی کمزوری اور منصوبہ بندی کے فقدان سے زراعت اورکسانوں کیلئے مشکلات بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈیشن اور جدید زراعت سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہو گا بلکہ روزگارکے مواقع بھی بڑھیں گے، کولڈ سٹوریج اور فوڈ پروسینگ سے متعلق امور کا بھی موثر جائزہ لینا ضروری ہے، قومی غذائی تحفظ کو قومی سلامتی کا حصہ بنایا جائے، دالوں کی پیداوار کیلئے منصوبے شروع کئے جائیں، ضلع میں فوڈ پروسیسنگ اورکولڈسٹوریج کی سہولت ہونی چاہئے۔ نثار جٹ نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ ناانصافیوں کی وجہ سے فوڈسکیورٹی سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، شوگر ملز مالکان کو کسانوں کو ادائیگی کا نظام الاوقات دینے کا پابند کیا جائے، کاٹن کی پیداوارمیں اضافہ کیا جائے، چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے اورانہیں سہولیات دی جائے، زرعی ٹیکنالوجی پردرآمدی ڈیوٹیوں میں کمی کی جائے۔
معظم علی خان نے بتایا کہ زراعت سے متعلق صنعتوں کیلئے پالیسی بنائی جائے،سیلابی پانی کے تحفظ اوران کے مفید استعمال کویقینی بنایا جائے، گندم اوردیگرفصلوں کیلئے امدادی قیمت مقررکی جائے۔عامرڈوگرنے کہاکہ بدقسمتی سے زراعت کاشعبہ تنزلی کاشکار ہے، زراعت اورکاشت کارکی ترقی کیلئے موجودہ حکومت کے اقدامات ناکافی ہے،فصل کی لاگت زیادہ آرہی ہے جبکہ کسانوں کواس کی مناسب قیمت نہیں مل رہی،حکومت کسانوں سے تمام پیداوارکی خریداری کویقینی بنائے۔جنوبی پنجاب کی زراعت پرتوجہ دینے سے یہ علاقہ پورے پاکستان کیلئے فوڈ باسکٹ بن سکتاہے۔خیبرپختونخوا کوگندم اورآٹا کی فراہمی جاری رکھی جائے، زراعت کی ترقی ملکی ترقی ہے۔ اویس حیدر جھکڑ نے کہاکہ گندم اورکاٹن کی پیداوار ملکی ضروریات کے مقابلہ میں کم ہے، کسان سے گندم اورگنا سستا حاصل کیا جا رہا ہے مگرقیمتیں زیادہ رکھی گئی ہے، خوردنی تیل کی درآمدات پراربوں ڈالرکا زرمبادلہ خرچ ہو رہا ہے، حکومت کسانوں کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے کھادیں اور توانائی کی قیمتیں کم کریں۔ پاسکو کے خاتمہ کے بعد پرکیورمنٹ کیلئے کوئی طریقہ کارموجودنہیں ہے،موسمیاتی تبدیلیوں کی مناسبت سے فصلیں اوربیج فراہم کی جائے۔
محمد امیر سلطان نے کہاکہ زراعت واحدشعبہ ہے جوملک کی معیشت کوترقی دلاسکتی ہے،فوڈ اورکسانوں کی سکیورٹی کیلئے سیلاب والے علاقوں میں این ڈی ایم اے کے مراکزبناناچاہیے،جھنگ کی تحصیل شورکوٹ میں کسی بھی کمپنی نے گندم نہیں خریدی،کسان مارے مارے پھرتے رہے،پنجاب حکومت کم سے کم سینٹرز کے قیام کوممکن بنائے۔ نعیمہ کشور خان نے کہاکہ کسانوں کوقرضوں کے حجم میں اضافہ کیا جائے،کسانوں کیلئے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی جائے، پانی کے وسائل کومحفوظ بنانے کیلئے اقدامات کئے جائے۔ شفقت عباس نے کہاکہ کسانوں کو ’’کسان کارڈ‘‘ یا کسی موثر پروگرام کے تحت مناسب مالی سہولتیں فراہم کی جائیں، ہمارے کسان اب بھی روایتی طریقوں سے کاشتکاری کر رہے ہیں۔ جب تک ہم جدید زرعی ٹیکنالوجی کو نہیں اپنائیں گے، ہماری فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔
اگر جدید طریقے اپنائے جائیں تو ہم اپنی پیداوار کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں ، حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ سنجیدگی سے زراعت اورزرعی شعبہ پرتوجہ دیں اور ایسی جامع پالیسیاں تشکیل دے جن سے کسانوں کو حقیقی فائدہ پہنچے۔ ریاض فتیانہ نے کہا کہ پانی کے حوالے سے کچھ کام ہو رہا ہے، مگر اس کے واضح نتائج نظر نہیں آ رہے۔ خوراک میں ملاوٹ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور اس پر فوری کارروائی ضروری ہے۔پنجاب میں سیڈ سپلائی کارپوریشن کے خاتمے کے بعد ہم مہنگے درآمدی بیجوں پر انحصار کر رہے ہیں جو کسانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسی طرح کھاد کی قیمتوں میں تقریبا 26 فیصد اضافہ ہوا جس سے اس کا استعمال کم اور پیداوار متاثر ہوئی ہے۔پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، مگر حکومت کی جانب سے موثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، ضرورت ہے کہ سرکاری زمینوں پر پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے شروع کیے جائیں۔اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو زراعت اور معیشت دونوں مزید متاثر ہوں گے۔شیرعلی ارباب نے کہاکہ فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔
آئی پی سی کے معیار کے مطابق پاکستان کے تقریباً 45 اضلاع ہائی رسک فوڈ سکیورٹی لیول 4 میں ہیں جو ایک سنگین وارننگ ہے۔ اسی طرح ملک میں فی کس پانی کی دستیابی تقریباً 260 کیوبک میٹر رہ گئی ہے جو خطرناک حد کے قریب ہے۔ فوڈ سکیورٹی، پانی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، وفاقی واٹر پالیسی موجود ہونے کے باوجود اس پر موثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو یہ مسائل مستقبل میں بڑے قومی بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ چنگیز خان جمالی نے کہا کہ زرعی پیداوار میں کمی اور پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ مہنگی کھاد اور زرعی مداخل ہیں۔ 2022ء سے اب تک فرٹیلائزر کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جدید زرعی بیجوں کی فراہمی پر توجہ دی جائے۔








