ایک امریکی وفاقی جج نےٹرمپ انتظامیہ کے اس ڈیٹا بیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا حکم دیا جس میں امریکی شہریوں کی نجی معلومات محفوظ کی گئی تھیں۔
امریکی جج نے شہریوں کے نجی ڈیٹا پر مشتمل ٹرمپ انتظامیہ کا ڈیٹا بیس غیر قانونی قرار دے دیا

مزید خبریں
واشنگٹن ۔23جون (اے پی پی):ایک امریکی وفاقی جج نےٹرمپ انتظامیہ کے اس ڈیٹا بیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا حکم دیا جس میں امریکی شہریوں کی نجی معلومات محفوظ کی گئی تھیں۔شنہوا کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ متعدد ریاستوں نے اس ڈیٹا کی بنیاد پر غلطی سے ووٹ ڈالنے کے اہل شہریوں کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کر دیے تھے۔امریکی ضلع عدالت برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی جج اسپارکل سوکنانن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ وفاقی حکومت نے جان بوجھ کر امریکی شہریوں کے رازداری کے حقوق کو پامال کیا، جس سے ووٹ کے بنیادی حق کو خطرہ لاحق ہوا۔جج کے مطابق وفاقی اداروں نے انتخابات کے نظام میں تبدیلی سے متعلق صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد کے دوران لاکھوں امریکیوں کی نجی معلومات کو جلد بازی میں یکجا کیا اور ان کا نیا استعمال شروع کیا، جن میں شہریت سے متعلق وہ معلومات بھی شامل تھیں جن کی درستگی پر خود حکام کو یقین نہیں تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ بعد ازاں مختلف ریاستوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر اس ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کی اور غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر امریکی شہریوں کے نام ووٹر فہرستوں سے نکالنا شروع کر دیے۔جج نے قرار دیا کہ یہ مقدمہ دو بنیادی حقوق یعنی شہریوں کی رازداری اور حقِ رائے دہی سے متعلق ہے، جو حکومتی اختیارات کے ناجائز استعمال سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔یہ فیصلہ ووٹنگ کے حقوق اور رازداری کے حامی اداروں کے اتحاد کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے جواب میں سنایا گیا۔ اس اتحاد کی قیادت "لیگ آف ویمن ووٹرز” کر رہی تھی، جس نے امریکی محکمہ داخلی سلامتی کے زیر انتظام شہریت اور امیگریشن اسٹیٹس کی تصدیق کے نظام میں کی گئی تبدیلیوں کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق اس حکم نامے کے تحت محکمہ داخلی سلامتی اور سوشل سکیورٹی ایڈمنسٹریشن سمیت متعدد وفاقی اداروں کو ایسے نظام قائم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، جن کے ذریعے ریاستی اور مقامی حکام ووٹرز یا ووٹر رجسٹریشن کرانے والوں کی شہریت یا امیگریشن حیثیت کی تصدیق کر سکیں۔دریں اثنا، لیگ آف ویمن ووٹرز نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ-وینس انتظامیہ کی جانب سے انتخابات میں غیر قانونی مداخلت کی کوشش کو عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔تنظیم کے بیان کے مطابق مذکورہ ڈیٹا بیس میں لاکھوں امریکیوں کی حساس اور قانونی تحفظ یافتہ ذاتی معلومات جمع کی گئی تھیں، جس کے باعث شہری بے بنیاد تحقیقات اور ووٹر فہرستوں سے غیر قانونی اخراج جیسے خطرات سے دوچار ہو سکتے تھے۔








