سپریم کورٹ ، زرعی بینک نیلامی کیس، جائیداد کی منتقلی غیر قانونی قرار، بینک کی اپیل خارج

سپریم کورٹ ، زرعی بینک نیلامی کیس، جائیداد کی منتقلی غیر قانونی قرار، بینک کی اپیل خارج

اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رہن شدہ جائیداد کی نیلامی کے باوجود ملکیت کی قانونی منتقلی مکمل نہیں ہوئی کیونکہ قانون کے مطابق رجسٹرڈ سیل ڈیڈ (رجسٹری) کی شرط پوری نہیں کی گئی۔

رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ نے خریدار کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ نیلامی میں جمع کرائی گئی رقم اسے واپس کی جائے گی تاہم اس پر بینکاری شرح کے مطابق منافع (مارک اپ) بھی ادا کیا جائے گا۔فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا جبکہ بنچ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس نوعیت کے معاملات میں محض انتقال یا نیلامی کا عمل جائیداد کی ملکیت منتقل کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتا بلکہ قانون کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ دستاویز اور مکمل قانونی تقاضوں کی تکمیل لازم ہے۔کیس کا تعلق زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ اور ایک نیلامی خریدار کی اپیلوں سے تھا جو لاہور ہائیکورٹ کے 26 ستمبر 2017 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق بینک نے قرض کی عدم ادائیگی پر رہن شدہ زرعی زمین کی نیلامی 2008 میں کی تھی تاہم بعد ازاں قانونی پیچیدگیوں اور طریقہ کار کے تنازعہ کے باعث معاملہ عدالتوں تک پہنچ گیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ متعلقہ مالیاتی قوانین کی ایک اہم شق بعد ازاں غیر آئینی قرار دی گئی جس کا اثر زیرِ التوا اور غیر حتمی معاملات پر بھی پڑتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ خریدار نے نیک نیتی سے رقم ادا کی تاہم قانونی خامیوں کے باعث اسے مکمل ملکیتی حق حاصل نہیں ہو سکا، اس لئے انصاف کے تقاضوں کے تحت اسے مالی ریلیف دیا جانا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے مجموعی طور پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے زرعی بینک کی اپیل خارج کر دی جبکہ خریدار کی اپیل جزوی طور پر منظور کر لی۔