وفاقی وزیر احسن اقبال سے ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف کی ملاقات، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال
وفاقی وزیر احسن اقبال سے ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف کی ملاقات، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال سے جمہوریہ ازبکستان کے پاکستان میں سفیر علی شیر تختائیف نے منگل کے روز یہاں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران فریقین نے تعلیم، تجارت، معیشت، ٹرانسپورٹ و مواصلات، زراعت اور مویشیوں کی ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے، علاقائی روابط بڑھانے اور اقتصادی انضمام کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔
دونوں ممالک نے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، طلبہ و اساتذہ کے تبادلہ پروگراموں، خصوصی استعداد کار بڑھانے اور تربیتی اقدامات کے ذریعے تعلیمی تعاون کو وسعت دینے کے مواقع کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈگری پروگراموں کی مشترکہ منظوری (جوائنٹ ایکریڈیٹیشن) کے امکانات پر بھی غور کیا گیا تاکہ معیار تعلیم کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور تعلیمی اسناد کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی میں اضافہ ہو۔
تعلیمی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے زبانوں کے فروغ اور علمی تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ روسی زبان سیکھنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ و محققین کے لیے ازبکستان ایک اہم منزل ثابت ہو سکتا ہے جس سے انہیں خطے میں موجود سائنسی، تکنیکی اور تحقیقی وسائل تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ ملاقات میں روحانی اور تعلیمی شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اسلامی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے ازبکستان کی کاوشوں کو سراہا، خصوصاً سمرقند میں بحال کیے گئے امام بخاری کمپلیکس اور تاشقند میں قائم سینٹر فار اسلامک سولائزیشن جیسے منصوبوں کو قابل تحسین قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے پاکستان میں بھی خاصی دلچسپی پیدا کی ہے اور ثقافتی و تعلیمی تعاون کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ فریقین نے ظہیر الدین محمد بابر کی زندگی اور خدمات پر مبنی ایک کثیر اقساط تاریخی ڈرامہ مشترکہ طور پر تیار کرنے کے امکان پر بھی غور کیا جس کا مقصد خطے کے مشترکہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے ازبکستان کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے اسے اپنا دوسرا وطن اور وسطی ایشیا میں پاکستان کے اہم ترین شراکت داروں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط کا ذکر کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ملاقات میں فضائی روابط کے فروغ کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں تاشقند-لاہور پرواز کو مزید موثر بنانے اور کراچی سے ازبکستان کے اہم شہروں کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور حکومت پاکستان کو علاقائی کشیدگی میں کمی، سفارتی روابط کے فروغ اور پرامن حل کی کوششوں پر مبارکباد پیش کی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور علاقائی روابط، اقتصادی تعاون اور ثقافتی ہم آہنگی کے مشترکہ وژن کو عملی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔








