آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہئے، وزیر دفاع خواجہ آصف کا دوٹوک مؤقف

آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہئے، وزیر دفاع خواجہ آصف کا دوٹوک مؤقف

اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بیرونی ایجنڈے پرکاربند شرپسند عناصر کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہئے، مقبوضہ کشمیرکے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو کم تر سمجھنا کشمیر کے مقصد کی نفی کے مترادف ہے ۔ منگل کو سوشل میڈیا ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ میرے آزاد جموں و کشمیر کے بحران سے متعلق ریمارکس صاف گوئی اور دیانتدارانہ تھے ، جن لوگوں کے خفیہ اور منفی ایجنڈے ہیں وہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ مجھ سے کشمیر کو، پاکستان سے کشمیر کو یا پاکستان کو کشمیر سے جدا نہیں کر سکتے ، ان کشمیریوں کی قربانیاں جنہوں نے اکتوبر1947 میں ہجرت کر کے پاکستان کا رخ کیا، تاریخ میں درج ہیں ۔ وزیردفاع نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد گزشتہ 78 سال سے قربانیوں، شہادتوں اور جیلوں میں قید رہنے کی ایک طویل داستان ہے ، پاکستان کا کشمیرکے مقصد سے وابستگی کا ثبوت ہمارے شہداء کے خون میں موجود ہے جو 5 جنگوں میں بہایا گیا ، پاکستان کا کشمیر کے مقصد سے وابستگی کا ثبوت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت اور ریفرنڈم کے اصولی مؤقف پر مبنی ہے ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہئے، کچھ کشمیری وہ ہیں جنہوں نے ہجرت کی قربانیاں دیں اور کچھ وہ ہیں جو آج بھی مقبوضہ کشمیر میں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں، پاکستان کے سپاہیوں کی حفاظت میں دہائیوں سے امن میں رہنے والے آزاد کشمیر کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہئے۔ انہو ں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو کم تر سمجھنا کشمیر کے مقصد کی نفی کے مترادف ہے ، ’’کشمیریت‘‘ کی تعریف پیدائشی سرٹیفکیٹس سے نہیں بلکہ وہ جدوجہد اور قربانیاں ہیں جو تقریباً 8 دہائیوں سے پاکستانیوں سمیت تمام لوگوں نے دی ہیں ۔