گھیا کدو کے پودوں کی بروقت چھدرائی سے بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے، محکمہ زراعت

محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھیا کدو کے پودوں کی بروقت چھدرائی یقینی بنائیں اور تین سے چار پتے نکل آنے پر ایک جگہ پر اگے ہوئے اضافی پودے نکال دیں تاکہ پودوں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رکھا جا سکے۔

سیالکوٹ۔24جون (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھیا کدو کے پودوں کی بروقت چھدرائی یقینی بنائیں اور تین سے چار پتے نکل آنے پر ایک جگہ پر اگے ہوئے اضافی پودے نکال دیں تاکہ پودوں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رکھا جا سکے۔ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک جگہ پر اگنے والے ایک سے زائد پودوں کو بروقت نکالنا ضروری ہے کیونکہ چھدرائی میں تاخیر کی صورت میں باقی رہ جانے والے پودے بھی متاثر ہوتے ہیں، جس سے ان کی بڑھوتری، افزائش اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار گھیا کدو کی آبپاشی کا بھی خصوصی خیال رکھیں۔ فصل کو پہلا پانی کاشت کے فوراً بعد دیا جائے جبکہ بعد ازاں ایک ہفتے کے وقفے سے آبپاشی جاری رکھی جائے۔ تاہم بارش کی صورت میں پانی لگانے کے دورانیے میں مناسب اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ جڑی بوٹیوں کی مؤثر تلفی کے لیے تین سے چار مرتبہ گوڈی کرنا ضروری ہے۔ ہر دوسری چنائی کے بعد گوڈی کرنے سے کھیت جڑی بوٹیوں سے پاک رہتا ہے اور فصل کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کرکے گھیا کدو کی بہتر نشوونما اور زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔