وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کو قومی اسمبلی میں حکومت پاکستان کے مالی سال 2024-25 کے تخصیصی حسا بات اور آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے وفاقی حسابات سے متعلق آڈٹ سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹس پیش کیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹس پیش کر دیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کو قومی اسمبلی میں حکومت پاکستان کے مالی سال 2024-25 کے تخصیصی حسا بات اور آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے وفاقی حسابات سے متعلق آڈٹ سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹس پیش کیں۔
یہ رپورٹس آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 171 کے تحت قومی اسمبلی کے سرکاری کاروبار کے ایک لازمی جز کے طور پر ایوان میں پیش کی گئیں۔یہ پیش رفت پاکستان میں عوامی مالیاتی نظم و نسق اور احتسابی نظام کی مضبوطی کی جانب ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاق سے متعلق آڈٹ رپورٹس اسی مالی سال کے دوران پارلیمان میں پیش کی گئی ہیں جس سے متعلق آڈٹ کی گئی ہے۔
اس پیش رفت سے نہ صرف آڈٹ رپورٹنگ کے نظام کو بروقت بنانے کے عمل کو فروغ ملا ہے بلکہ عوامی اخراجات پر پارلیمانی نگرانی کو مزید موثر اور بامعنی بنانے میں بھی مدد ملے گی۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے کہا کہ آڈٹ رپورٹس کی بروقت پیشکش حکومت کے اس عزم کا مظہر ہے کہ عوامی مالیات کے انتظام میں شفافیت، جوابدہی اور پارلیمانی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آڈٹ مشاہدات اس وقت زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں جب وہ بروقت پارلیمان کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ ان کی روشنی میں اصلاحی اقدامات بروقت اختیار کیے جا سکیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے اس تاریخی کامیابی پر آڈیٹر جنرل پاکستان اور ان کی پوری ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران آڈٹ رپورٹس کی پیشکش میں ہونے والی تاخیر کے تناظر میں یہ پیش رفت ایک نمایاں ادارہ جاتی کامیابی ہے جو ملک میں عوامی احتساب کے نظام کو مزید موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس سال ایک اور اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ آڈٹ رپورٹس پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کو ڈیجیٹل ذرائع سے فراہم کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں معزز اراکین پارلیمان کو رپورٹس بیک وقت الیکٹرانک صورت میں دستیاب ہوئیں۔
یہ اقدام پارلیمانی امور میں ڈیجیٹلائزیشن، کارکردگی میں بہتری اور کاغذ سے پاک ماحول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جسے آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔آڈٹ رپورٹس کی بروقت اور ڈیجیٹل فراہمی پاکستان میں مالیاتی شفافیت، موثر حکمرانی، ادارہ جاتی جوابدہی اور عوامی وسائل پر پارلیمان کی نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔








