انسپکٹر جنرل کے پی پولیس کا سیف سٹی ہیڈکواٹرز پشاور کا دورہ

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے بدھ کو سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم ہیڈ کوارٹرزپولیس لائنز پشاور کا تفصیلی دورہ کیا۔

پشاور۔ 24 جون (اے پی پی):انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے بدھ کو سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم ہیڈ کوارٹرزپولیس لائنز پشاور کا تفصیلی دورہ کیا۔ سنٹرل پولیس آفس پشاورکے تر جمان کے مطابق ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، سی سی پی او پشاور، ڈی آئی جی آپریشنز، ڈی آئی جی آئی ٹی،سی ٹی او پشاورسمیت سیف سٹی پراجیکٹ کے افسران اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام بھی اس موقع پرموجود تھے۔دورے کے دوران آئی جی پی کو صوبہ بھر میں محرم الحرام کے سیکیورٹی پلان، حساس مجالس و جلوسوں کی نگرانی، سیف سٹی کیمروں کے نیٹ ورک، جدید سرویلنس سسٹمز، ایمرجنسی رسپانس میکنزم اور فیلڈ فورسز کے ساتھ رابطہ کاری کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے سیف سٹی نظام کے تحت شہر بھر کی نگرانی جدید کیمروں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کو مطلوب افراد کی فوری نشاندہی اور مانیٹرنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔سکیورٹی اقدامات کے تحت تقریباً 80 پولیس اہلکاروں کو باڈی کیمرے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ 30 سے زائد سٹی پٹرولنگ گاڑیوں میں براہ راست مانیٹرنگ کا نظام فعال ہے۔ رات کے اوقات میں تھرمل ایمیجنگ کیمروں کے ذریعے بھی حساس مقامات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کے لیے مختلف مقامات پر نصب 347 کیمروں کے علاوہ 167 سرویلنس کیمرے بھی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔سیف سٹی ہیڈکوارٹر پشاور سے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کی سکیورٹی صورتحال کی براہ راست نگرانی کی جا رہی ہے، جن میں کوہاٹ، ڈی آئی خان ، بنوں، مردان، ہنگو، لکی مروت اور ٹانک شامل ہیں۔

آئی جی پی نے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے لائیو مانیٹرنگ، ویڈیو وال، ایمرجنسی کال ریسپانس اور سکیورٹی آپریشنز کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا۔اس موقع پر آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ محرم الحرام کے دوران تمام حساس مقامات، امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کی چوبیس گھنٹے موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا سکیورٹی خدشے پر فوری اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے۔بعد ازاں آئی جی پی نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات کو موثر بنانے کے لیے سیف سٹی منصوبے کے تحت تمام اہم روٹس اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

سیف سٹی نظام میں نمبر پلیٹ کی شناخت، چہرہ شناخت کرنے والے کیمرے اور تھرمل کیمروں کی سہولت موجود ہے، جس کے ذریعے محرم کے جلوسوں اور مجالس کی براہ راست مانیٹرنگ کی جائے گی۔محرم الحرام کے دوران سیف سٹی کنٹرول روم کو مکمل فعال رکھا جائے گا، جہاں سے تمام حساس مقامات اور سکیورٹی صورتحال کی نگرانی کی جائے گی۔ آئی جی پی کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے 14 اضلاع میں سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں، جن میں 6 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔سکیورٹی پلان کے تحت پولیس کے ساتھ فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار بھی تعینات کئے جائیں گے، جبکہ حساس اضلاع میں ڈرون کیمروں کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔

آئی جی پی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے باعث پولیس مکمل طور پر الرٹ ہے۔ کسی بھی ممکنہ خطرے کی اطلاع پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کواڈکاپٹر ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کو بھی سکیورٹی پلان کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ محرم الحرام کے دوران حساس اضلاع میں اینٹی ڈرون سسٹم تعینات کئے جائیں گے جبکہ سیف سٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے نظام کو مزید بہتر اور مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔آئی جی پی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، مذہبی آزادی کے احترام اور محرم الحرام کے پرامن انعقاد کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اُمید ظاہر کی کہ مشترکہ کوششوں سے شرپسند عناصر کے مذموم عزائم ناکام ہوں گے اور عاشورہ محرم امن و بھائی چارے کے ساتھ منایا جائے گا۔

قبل ازیں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کی زیر صدارت محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کا از سر نو جائزہ لینے کے حوالے سے تمام ریجنل پولیس افسران کے ساتھ ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا۔ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، سی سی پی او پشاور، ڈی آئی جی آپریشنز، اے آئی جی آپریشنز نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ تمام آر پی اوزبذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران صوبے بھر میں محرم الحرام کے سکیورٹی پلان، حساس اضلاع، مجالس، جلوسوں، امام بارگاہوں، ٹربل سپاٹس، انٹیلی جنس اطلاعات اور مجموعی امن و امان کی صورتحال کا از سر نو تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام آر پی اوز نے اپنے اپنے ریجنز میں کئے گئے سکیورٹی انتظامات، نفری کی تعیناتی، سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز، فلیگ مارچز، امن کمیٹیوں کے اجلاسوں اور دیگر حفاظتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں شیڈول فورتھ میں شامل افراد کی نگرانی، سوشل میڈیا مانیٹرنگ، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز، سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ خیبر پختونخوا پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے حساس اضلاع، امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

آئی جی پی نے ہدایت کی کہ تمام ضلعی کنٹرول رومز مکمل طور پر فعال رکھے جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئیک رسپانس فورسز ہر وقت تیار رہیں۔ آئی جی خیبر پختونخوا نے تمام آر پی اوز اور ضلعی پولیس سربراہان کو محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات کی مسلسل نگرانی اور موثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔