تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن پر پیغام
تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔26جون (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کو کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہیں۔تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن جو آج جمعہ کو منایا جارہا ہے، کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن پر پاکستان دنیا بھر میں تشدد کے متاثرین سے پرخلوص انداز میں اظہار یکجہتی کرتا ہے۔
آج پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے، انسانی وقار، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن انسان کی عزت و تکریم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور یاد دہانی کراتا ہے کہ تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان انسان کے تقدس و وقار سے متعلق اسلامی اقدار کی رہنمائی اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں تشدد کے خاتمے اور تمام افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے قومی عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
کسی بھی نوعیت کے معاشرتی تشدد کے متاثرین بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کے حقدار ہیں اور تشدد کے مرتکب افراد کا احتساب یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لئے متعلقہ قوانین کے موثر نفاذ، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی تحفظ و نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی قابضین کی طرف سے وسیع پیمانے اور منظم انداز میں تشدد کے بطور ہتھیار استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام ریاستی جبر و استبداد، قابضین کے بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔قابضین کے جرائم کی مذمت اور انکی جوابدہی مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پاکستان عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کےمتاثرین کی مشکلات و مصائب کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہے۔ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہائیوں سے انسانی حقوق کی مسلسل سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ عالمی سطح پر متعدد، مستند رپورٹس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست تشدد، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں، اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیوں اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے حوالے سے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹس اور تحفظات درحقیقت منظم تشدد کی عالمی تصدیق ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے عالمی سطح پر مرتکب عناصر کا احتساب یقینی بنایا جائے اور تشدد کے متاثرین کے تحفظ کے لیے موثر اور بامعنی بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آج کے دن بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں تشدد کے متاثرین سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتا ہے اور ان کی غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے حق خودارادیت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔








