روسی میڈیا گروپ اسلام آباد میں کثیر المقاصد ادارتی مرکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، ڈی جی روسیا سیگودنیا

"پاکستان اور روس کے درمیان میڈیا تعاون کے فروغ اور اردو زبان میں نئے پلیٹ فارمز کے قیام سے اطلاعات کے تبادلے، عوامی روابط اور باہمی تعلقات کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔”

اسلام آباد۔26جون (اے پی پی):روسی حکومت کی ملکیت اور زیر انتظام میڈیا گروپ اسلام آباد میں ایک کثیر المقاصد ادارتی مرکز اور پاکستان بھر میں ایک وسیع تر نامہ نگار نیٹ ورک قائم کرنے پر غور کر رہا ہے۔روسیا سیگودنیا (Rossiya Segodnya )کے ڈائریکٹر جنرل دمتری کیسلیوف نے اے پی پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اردو زبان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم شروع کرنے کے منصوبے جاری ہیں، میڈیا کوریج میں بین الاقوامی مسائل اور پاکستان میں ہونے والی پیش رفت پر توجہ دی جائے گی۔

ڈائریکٹر جنرل نے اپنی 85ویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ روسیا سیگودنیا کا مقصد پاکستانی میڈیا تنظیموں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا اور آنے والے سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنا ہے۔انہوں نے میڈیا گروپ کی بین الاقوامی ترجیحات، توسیعی منصوبوں اور پاکستان کے ساتھ مضبوط تعاون کے وژن کا خاکہ پیش کیا اور نئی شراکت داری، کثیر لسانی مواد اور صحافیوں کے تبادلے کے ذریعے جنوبی ایشیا میں اپنی موجودگی بڑھانے کا منصوبہ بھی بتایا۔انہوں نے پاکستان کو ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ادارہ پاکستانی اداروں کے ساتھ میڈیا کے تعلقات پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔انہوں نے اس تعاون کی ایک مثال کے طور پر ماسکو-اسلام آباد میڈیا فورم کی طرف اشارہ کیا، جس میں دونوں ممالک کے سینئر حکام، سفارت کاروں اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی۔انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان(اے پی پی)، دی نیشن اور پاکستان آبزرور کے ساتھ موجودہ مفاہمتی یادداشتوں پر بھی روشنی ڈالی جس پر گزشتہ سال اسلام آباد میں دستخط کیے گئے تھے، ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں آر آئی اے نووستی (RIA Novosti)کے مستقل نمائندے کی موجودگی کے حوالہ سے کہا کہ اس سے مستقبل میں شعبے پر مزید اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔مستقبل کے اقدامات کے بارے میں، انہوں نے کئی شعبوں کی نشاندہی کی جہاں تعاون کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ ان میں خبروں کے مواد کا براہ راست تبادلہ، نیوز رومز کے درمیان زیادہ رسائی، میڈیا فورمز، ماہرین کی کانفرنسیں اور اقتصادی، سائنسی و ثقافتی مضامین کا احاطہ کرنے والے مشترکہ منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے پاکستانی صحافیوں کے لیے روس کے پریس دوروں اور روسی صحافیوں کے لیے پاکستان کے اسی طرح کے دوروں کی تجویز بھی پیش کی تاکہ دونوں ممالک میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفہیم کو بہتر بنایا جا سکے۔دو طرفہ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روسی اور پاکستانی میڈیا اداروں کے درمیان تعاون کو صرف اسٹریٹجک نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھا جانا چاہیے ، انہوں نے اسے ممالک اور معاشروں کے درمیان براہ راست رابطے کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک وسیع تر کوشش کا حصہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ روسیا سیگودنیا ایک بین الاقوامی میڈیا تنظیم ہے جس کی توجہ عالمی پیش رفت کی کوریج پر مرکوز ہے جبکہ اہم واقعات پر نقطہ نظر بھی پیش کیا جاتاہے۔یہ گروپ اپنے اہم برانڈزآر آئی اے نووستی اور سپوتنک کے ذریعے کام کرتا ہے اور درجنوں ممالک میں ان کے نامہ نگار کام کرتے ہیں۔ سپوتنک 34 زبانوں میں مواد شائع کرتا ہے اور کئی خطوں میں سامعین کو خبریں، ریڈیو اور ملٹی میڈیا خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تنظیم کی اپنی بین الاقوامی حکمت عملی ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ پر مرکوز ہے جہاں حالیہ برسوں میں سامعین میں اضافے کا رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نیٹ ورک میں 100 سے زائد ممالک میں سینکڑوں پارٹنر تنظیمیں، میڈیا آؤٹ لیٹس، یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل کے مطابق میڈیا گروپ کا کردار خبروں کے مواد کی تیاری اور مختلف نقطہ نظر سے معلومات تک رسائی پر مرکوز رہا ہے۔ اس مشن کے ساتھ ساتھ تنظیم نے ڈیپ فیکس سمیت غلط معلومات اور ہیرا پھیری والے مواد کا جواب دینے پر بھی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا اداروں کو درست معلومات فراہم کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے اور سامعین کے ساتھ اعتماد کو برقرار رکھنا ایک اہم مقصد ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا گروپ نے نئے ادارتی مراکز، ریڈیو نشریات اور نامہ نگار دفاتر کے ذریعے اپنے بین الاقوامی آپریشنز کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔حالیہ پیش رفت میں ایتھوپیا میں ادارتی مرکز کا افتتاح ، بیجنگ میں آپریشنز کو جدید بنانا اور بیروت میں ایف ایم نشریات کا آغاز شامل ہے۔ اسپوتنک پروگرامنگ کئی افریقی ممالک میں ریڈیو اسٹیشنوں کے ذریعے بھی دستیاب ہے جب کہ منگولیا، ویتنام، انڈونیشیا، ارجنٹائن اور برازیل میں نشریات کے نئے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ یہ تنظیم افریقہ اور ایشیا میں اضافی دفاتر قائم کرنے کے مواقع بھی تلاش کر رہی ہے۔انہوں نے اپنے انٹرویو میں تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگراموں کا بھی احاطہ کیا ۔ 2018 سے روسیا سیگودنیا سپوتنک پرو کو چلا رہا ہے جو ایک بین الاقوامی تربیتی اقدام ہے جسے صحافیوں، میڈیا طلباء، پریس افسران اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں میڈیا پروفیشنلز اور ماہرین کے ذریعہ منعقدہ سیمینارز، ورکشاپس اور لیکچرز شامل ہیں۔ ادارہ کے مطابق سپوتنک پرو نے متعدد ممالک میں اپنی سرگرمیوں کو منظم کیا ہے اور ہزاروں شرکاء کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ پاکستانی طلباء پہلے ہی اس اقدام کے ذریعے ویبنارز میں حصہ لے چکے ہیں جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے ایک صحافی نے حال ہی میں ماسکو میں چار ہفتے کے تربیتی ماڈیول میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے مستقبل میں پاکستانی میڈیا اداروں کے ساتھ اس طرح کے مواقع بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ مستقبل کے حوالہ سے ڈائریکٹر جنرل نے جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی، آبادی کے حجم اور پھیلتی ہوئی میڈیا مارکیٹ کی وجہ سے ایک اہم خطہ کے طور پر شناخت کیا۔ انہوں نے کہا کہ کثیر لسانی صحافت تجارت، تعلیم، ثقافتی تبادلوں اور روس اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان وسیع تر تعاون کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے اردو، پنجابی، پشتو اور بنگالی سمیت علاقائی زبانوں میں نشریات پر خصوصی زور دیا ۔ اردو زبان کی خدمات کے آغاز کو خطے میں ادارہ کی اہم ترجیحات میں سے ایک قرار دیا ۔

مزید خبریں