خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)آرگینک زراعت، مصنوعات اور جڑی بوٹیوں کے شعبے کو برآمدی صنعت کے طور پر ترقی دینے کیلئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے ،پاکستان زرخیز زرعی زمین، متنوع موسمی حالات، قدرتی وسائل اور قیمتی جڑی بوٹیوں کی بدولت آرگینک مصنوعات کی پیداوار کے لیے غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے تاہم مربوط پالیسی، عالمی معیار کی سرٹیفکیشن، ویلیو ایڈیشن اور …
آرگینک فارمنگ کو کلسٹرز، لیبارٹریز،سرٹیفکیشن، ویلیو ایڈیشن کو ایس آئی ایف سی کے تحت ترجیح دی جائے،نجم مزاری
اسلام آباد۔27جون (اے پی پی):خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)آرگینک زراعت، مصنوعات اور جڑی بوٹیوں کے شعبے کو برآمدی صنعت کے طور پر ترقی دینے کیلئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے ،پاکستان زرخیز زرعی زمین، متنوع موسمی حالات، قدرتی وسائل اور قیمتی جڑی بوٹیوں کی بدولت آرگینک مصنوعات کی پیداوار کے لیے غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے تاہم مربوط پالیسی، عالمی معیار کی سرٹیفکیشن، ویلیو ایڈیشن اور جدید پراسیسنگ کی سہولیات نہ ہونے کے باعث اس شعبے کی حقیقی استعداد سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ آرگینک خوراک اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ایک نجی ادارہ کے سربراہ نجم مزاری نے ہفتہ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ عالمی سطح پر آرگینک خوراک، مصالحہ جات، شہد، باسمتی چاول، پھلوں، سبزیوں اور ہربل مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے پاکستان خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اگر ایس آئی ایف سی اس شعبے میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، پراسیسنگ یونٹس، برآمدی انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی مارکیٹنگ کے لیے خصوصی اقدامات کرے تو ابتدائی مرحلے میں آرگینک زرعی و ہربل مصنوعات کی برآمدات 2 سے 3 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کی گنجائش موجود ہے جبکہ آئندہ 8 سے 10 برس کے دوران اسے بتدریج بڑھا کر 5 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک لے جایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں قدرتی طور پر اگنے والی سینکڑوں اقسام کی قیمتی جڑی بوٹیاں عالمی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آرگینک فارمنگ کلسٹرز، جدید ٹیسٹنگ لیبارٹریاں، بین الاقوامی معیار کی سرٹیفکیشن، کسانوں کی تربیت اور ویلیو ایڈیشن کے منصوبوں کو ایس آئی ایف سی کے تحت خصوصی ترجیح دی جائے تاکہ پاکستان عالمی سپلائی چین میں اپنا موثر مقام حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ دیہی معیشت مستحکم، لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا اور پاکستان عالمی آرگینک مارکیٹ میں ایک نمایاں برآمد کنندہ ملک کے طور پر اپنی شناخت قائم کر سکے گا۔









