امارت مکہ مکرمہ کی جانب سے مسجد عائشہؓ کی تاریخی خصوصیات پر تفصیلات جاری

امارت مکہ مکرمہ کی جانب سے تاریخِ اسلام کی اہم ترین مسجد، ’’مسجدِ سیدہ عائشہؓ‘‘ (المعروف مسجدِ تنعیم) کی تاریخی اور تعمیراتی خصوصیات کے حوالے سے تفصیلی معلومات جاری کی گئی ہیں۔ یہ تاریخی مسجد مکہ مکرمہ کے شمال میں مسجدِ حرام سے تقریباً 7.5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

مکہ مکرمہ۔27جون (اے پی پی):امارت مکہ مکرمہ کی جانب سے تاریخِ اسلام کی اہم ترین مسجد، ’’مسجدِ سیدہ عائشہؓ‘‘ (المعروف مسجدِ تنعیم) کی تاریخی اور تعمیراتی خصوصیات کے حوالے سے تفصیلی معلومات جاری کی گئی ہیں۔ یہ تاریخی مسجد مکہ مکرمہ کے شمال میں مسجدِ حرام سے تقریباً 7.5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس مقام کی بنیادی روحانی اہمیت یہ ہے کہ 9 ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسی جگہ سے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ حدودِ حرم کے اختتام پر واقع ہونے کے باعث یہ مسجد پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے ان تمام مسلم زائرین کے لیے مرکزی میقات کا درجہ رکھتی ہے جو مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران نیا احرام باندھ کر اضافی عمرہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تاریخی دستاویزات کے مطابق عباسی خلیفہ المتوکل کے دور (240 ہجری) میں یہ مسجد محض 6 ہزار مربع میٹر پر قائم تھی جس کی بعد میں سعودی حکومت کی جانب سے وسیع پیمانے پر توسیع کی گئی اور اب اس کا کل رقبہ 84 ہزار مربع میٹر ہو چکا ہے۔ مسجد کی موجودہ عمارت اپنے بلند دروازوں اور منفرد کھڑکیوں کے ساتھ جہاں جدید مسلم طرزِ تعمیر اور قدیم روایتی نقش و نگار کا ایک حسین امتزاج پیش کرتی ہے، وہاں زائرین کے لیے غسل، وضو اور احرام کی تمام جدید سہولیات بھی فراہم کرتی ہے۔