پاکستان میں 10 سال یا اس سے زائد عمر کی آبادی میں کم از کم پرائمری تعلیم مکمل کرنے والوں کی شرح25۔2024میں بڑھ کر 57 فیصد ہو گئی، جو ملک میں تعلیمی کامیابیوں میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان میں پرائمری تعلیم مکمل کرنے کی شرح 57 فیصد تک پہنچ گئی
اسلام آباد۔27جون (اے پی پی):پاکستان میں 10 سال یا اس سے زائد عمر کی آبادی میں کم از کم پرائمری تعلیم مکمل کرنے والوں کی شرح25۔2024میں بڑھ کر 57 فیصد ہو گئی، جو ملک میں تعلیمی کامیابیوں میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق قومی سطح پر پرائمری تعلیم مکمل کرنے کی شرح 19-2018 میں 51 فیصد تھی جو25-2024 میں بڑھ کر 57 فیصد ہو گئی۔ مردوں میں یہ شرح 61 فیصد سے بڑھ کر 65 فیصد جبکہ خواتین میں 42 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہو گئی، جو دونوں جنسوں میں تعلیمی کامیابیوں میں مسلسل بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔دستاویزات کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں میں تعلیمی معیار میں بہتری آئی ہے۔ شہری علاقوں میں پرائمری تعلیم مکمل کرنے کی شرح 66 فیصد سے بڑھ کر 68 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 42 فیصد سے بڑھ کر 49 فیصد ہو گئی۔
دیہی علاقوں میں مردوں کی شرح 54 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد اور خواتین کی شرح 32 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گئی۔صوبوں میں پنجاب نے سب سے زیادہ پرائمری تکمیل کی شرح ریکارڈ کی، جو 57 فیصد سے بڑھ کر 62 فیصد ہو گئی۔ سندھ میں یہ شرح 49 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد، جبکہ خیبر پختونخوا میں 44 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد ہو گئی۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں یہ شرح 31 فیصد سے بڑھ کر 42 فیصد تک پہنچ گئی۔دستاویزات کے مطابق تعلیمی کامیابیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سکول میں داخلے اور شرکت کے رجحان میں بھی بہتری آئی ہے۔ 10 سال یا اس سے زائد عمر کی آبادی میں کبھی نہ کبھی سکول جانے والوں کی شرح19-2018 میں 61 فیصد تھی جو25۔2024میں بڑھ کر 67 فیصد ہو گئی۔ مردوں میں یہ شرح 73 فیصد سے بڑھ کر 77 فیصد جبکہ خواتین میں 50 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گئی۔دیہی علاقوں میں بھی سکول میں حاضری کے رجحان میں بہتری دیکھی گئی، جہاں یہ شرح 53 فیصد سے بڑھ کر 59 فیصد ہو گئی۔
دستاویزات کے مطابق دیہی خواتین کی سکول میں شرکت میں خاص طور پر حوصلہ افزا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو تعلیمی مواقع بڑھانے اور تعلیم تک رسائی میں عدم مساوات کم کرنے کی جاری کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کے خواندگی کے اشاریوں میں بھی بہتری آئی۔ 10 سال یا اس سے زائد عمر کی آبادی میں شرح خواندگی 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی، جبکہ مردوں میں شرح خواندگی 73 فیصد اور خواتین میں 54 فیصد تک پہنچ گئی۔ دیہی خواتین کی شرح خواندگی میں تمام آبادیاتی گروہوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ملک میں سکول سے باہر بچوں کی شرح 2023 میں 38 فیصد تھی جو 2025 میں کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی، جبکہ تمام صوبوں اور خطوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔دستاویزات کے مطابق پرائمری تعلیم مکمل کرنے، سکول میں حاضری اور شرح خواندگی میں مسلسل اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک بھر میں تعلیم تک رسائی بہتر بنانے اور تعلیمی نتائج میں بہتری کے لیے جاری اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں۔









