چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی چودھویں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل لیگل فورم میں پاکستان کی نمائندگی

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی چودھویں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل لیگل فورم میں پاکستان کی نمائندگی

اسلام آباد۔27جون (اے پی پی):چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے روس کی وفاقی ریاست سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہونے والے چودھویں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل لیگل فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ انہوں نے اس موقع پر دنیا بھر کی آئینی عدالتوں، سپریم کورٹس اور انصاف کے شعبے کے اداروں کے ساتھ قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی اور آئینی حکمرانی کے حصول کے لیے تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ فورم دنیا کے اہم ترین بین الاقوامی فورمز میں سے ایک ہے جو قانونی تعاون، عدالتی مکالمے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے وقف ہے۔

فورم کے دوران چیف جسٹس نے عالمی سطح کے ممتاز فقہاء، سرکاری عہدیداروں اور قانونی ماہرین کے ساتھ آئینی مسائل، عدالتی آزادی، بین الاقوامی قانونی تعاون اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں عدالتوں کے ابھرتے کردار پر اعلیٰ سطح کے مباحثوں میں حصہ لیا۔فورم کے موقع پر چیف جسٹس نے متعدد اہم دو طرفہ ملاقاتیں کیں،انہوں نے اکین گورلک، جمہوریہ ترکی کے وزیر انصاف اکین گورلک، جمہوریہ تاجکستان کے چیف جسٹس (سپریم کورٹ کے چیئرمین) جسٹس رستم پیراخمدووچ مرزا زادہ اور روسی فیڈریشن کونسل میں روسی فیڈریشن کونسل میں روس–پاکستان فرینڈشپ گروپ کے سربراہ سینیٹر ولادیمیر چیژوف شامل تھے۔اس موقع پر پاکستان کے روس میں سفیر فیصل نیاز ترمذی بھی موجود تھے۔

ملاقاتوں کا محور عدالتی تعاون کو مضبوط بنانا، ادارہ جاتی تعاون کو بڑھانا، قانونی مہارت کے تبادلے کو فروغ دینا اور آئینی قانون، عدالتی انتظامی اور قانونی تعلیم کے شعبوں میں پاکستان اور دوست ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی راہیں تلاش کرنا تھا۔ چیف جسٹس نے وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے اس عزم کا دوبارہ اعادہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتی مکالمے کو فروغ دیں گے اور دنیا بھر کی آئینی عدالتوں، سپریم کورٹس اور انصاف کے شعبے کے اداروں کے ساتھ قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی اور آئینی حکمرانی کے حصول کے لیے تعاون کو فروغ دیں گے۔

چودھویں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل لیگل فورم میں چیف جسٹس کی شرکت پاکستان کی فعال بین الاقوامی قانونی مصروفیات کے تسلسل اور عالمی عدالتی و آئینی مباحث میں ملک کی موجودگی کو مزید مستحکم کرتی ہے۔