ایف ایف سی اور چینی کمپنی کے درمیان کوئلہ سے کھاد بنانے کے منصوبے کے لیے 1.12 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) 2.0 کے تحت پاکستان کے کوئلہ سے یوریا بنانے کا مجوزہ منصوبہ ملک میں کھاد کی پیداوار کے ذرائع کو متنوع بنانے اور قدرتی گیس کی کمی سے وابستہ دیرینہ مسائل کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اسلام آباد۔27جون (اے پی پی):چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) 2.0 کے تحت پاکستان کے کوئلہ سے یوریا بنانے کا مجوزہ منصوبہ ملک میں کھاد کی پیداوار کے ذرائع کو متنوع بنانے اور قدرتی گیس کی کمی سے وابستہ دیرینہ مسائل کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔اس منصوبے کو اس وقت اہمیت حاصل ہوئی جب فوجی فرٹیلائزر کمپنی(ایف ایف سی) نے چین کی ہیوالو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ 1.12 ارب ڈالر مالیت کے کوئلہ سے کھاد بنانے کے منصوبے کے لیے فرنٹ اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن (فیڈ) معاہدہ کیا۔

مجوزہ پلانٹ سے سالانہ 7 لاکھ 17 ہزار ٹن یوریا پیدا ہونے کی توقع ہے جبکہ یہ ہر سال تقریباً 21 لاکھ ٹن مقامی کوئلہ استعمال کرے گا اور 2030-31 میں کمرشل پیداوار شروع کرنے کا امکان ہے۔یہ منصوبہ پاکستان کا پہلا بڑا کوئلہ سے یوریا بنانے کا منصوبہ ہوگا اور اس سے کھاد کی صنعت کا قدرتی گیس پر انحصار کم ہو سکتا ہے جو اس وقت یوریا پیداوار کا بنیادی ذریعہ ہے۔پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق زراعت ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 23.44 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور 33.1 فیصد افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زرعی پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے زرعی مداخل (ان پٹس) کی مسلسل اور سستی فراہمی انتہائی اہم ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران کھاد کے غذائی اجزا کی کھپت 37 لاکھ 95 ہزار ٹن رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11.4 فیصد زیادہ ہے۔ اس دوران مقامی کھاد کی پیداوار میں 0.5 فیصد کمی جبکہ دستیابی میں 2.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ربیع سیزن 2025-26 کے دوران یوریا کی دستیابی 43 لاکھ 82 ہزار ٹن رہی جبکہ کھپت 35 لاکھ 64 ہزار ٹن تھی۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ محمد عمر فاروق نے کہا کہ پاکستان کا پہلا کوئلہ سے یوریا منصوبہ کھاد کی سکیورٹی کو مضبوط بنا سکتا ہے کیونکہ اس سے ایسی صنعت میں تنوع آئے گا جو اب بھی بڑی حد تک قدرتی گیس پر انحصار کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں یوریا کی پیداوار کو وقتاً فوقتاً گیس کی کمی، موسمی طلب میں اضافہ اور درآمدی ضروریات کا سامنا رہتا ہے، مقامی وسائل پر مبنی کوئلے کا استعمال بیج بونے کے سیزن میں زیادہ مستحکم فراہمی یقینی بنا سکتا ہے جبکہ بین الاقوامی قیمتوں اور زرِ مبادلہ کے دباؤ کو بھی کم کر سکتا ہے۔محمد عمر فاروق نے کہا کہ اس منصوبے کی اصل افادیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ اضافی پیداوار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں تک بروقت، مناسب قیمت اور قابلِ اعتماد طریقے سے پہنچتی ہے یا نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ہیوالو انجینئرنگ کے ساتھ شراکت داری کوئلہ گیسفیکیشن، کیمیکل پراسیسنگ اور پلانٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دے تاکہ مقامی مہارت میں اضافہ ہو اور درآمدی ٹیکنالوجی پر طویل المدتی انحصار کم کیا جا سکے۔اینگرو فرٹیلائزرز کے ریسرچ ایسوسی ایٹ طلحہ ناصر نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ یہ منصوبہ درآمدی گیس اور یوریا پر انحصار کم کرکے کھاد کی سکیورٹی کو بہتر بنا سکتا ہے اور کسانوں کے لیے زیادہ مستحکم مقامی فراہمی یقینی بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار میں اضافہ قیمتوں کے استحکام، زرعی پیداوار میں بہتری اور کھاد کی خودکفالت کے ذریعے ملک کے غذائی تحفظ کو مضبوط کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

طلحہ ناصر نے مزید کہا کہ پالیسی سازوں کو شفاف اور مستقل صنعتی پالیسیوں، مستحکم سرمایہ کاری ماحول، مضبوط انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس نیٹ ورک، ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے مقامی وسائل کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق طویل المدتی پالیسی تسلسل اور مقامی صنعت کی حمایت ایک مضبوط کھاد سیکٹر کے لیے ناگزیر ہے۔اگر اس منصوبے پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد کیا گیا تو یہ پاکستان کی کھاد سپلائی چین کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے اور سی پیک 2.0 کے صنعتی تعاون کے ایجنڈے کو بھی آگے بڑھا سکتا ہے۔