لاہور ہائیکورٹ نے دوہرے قتل کے مقدمے میں ایک ملزم کی سزا برقرار جبکہ دوسرے کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے قرار دیا کہ فرانزک سے تصدیق شدہ ویڈیو ثبوت کی بنیاد پر سزا برقرار رکھی جا سکتی ہے جبکہ غیر مصدقہ تصاویر کو ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ کا دوہرے قتل کے مقدمے کا فیصلہ ، ایک ملزم کی سزا برقرار ، دوسرے کی سزا کالعدم قرار
لاہور۔27جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے دوہرے قتل کے مقدمے میں ایک ملزم کی سزا برقرار جبکہ دوسرے کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے قرار دیا کہ فرانزک سے تصدیق شدہ ویڈیو ثبوت کی بنیاد پر سزا برقرار رکھی جا سکتی ہے جبکہ غیر مصدقہ تصاویر کو ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ہفتہ کو جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزمان محمد اعظم اور اعظم نعیم کی اپیلوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ قتل کے مقدمات میں الیکٹرانک شواہد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور مستند ویڈیو ثبوت کو بعض حالات میں انسانی گواہی پر فوقیت حاصل ہو سکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ زخمی گواہ کا بیان بھی ویڈیو اور میڈیکل شواہد سے مطابقت رکھنا ضروری ہے اور صرف زخمی ہونا گواہ کے ہر بیان کی صداقت کی ضمانت نہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ میڈیکل شواہد سے متصادم عینی گواہی کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی،جبکہ صرف اسلحہ کی برآمدگی کافی نہیں بلکہ اس کی فرانزک تصدیق بھی ضروری ہے۔ فیصلے کے مطابق ملزمان پر2019 میں گھریلو تنازعے کے دوران دو افراد کے قتل اور ایک خاتون کو زخمی کرنے کا الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے محمد اعظم کو دو بار عمر قید جبکہ اعظم نعیم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ویڈیو شواہد کی روشنی میں محمد اعظم کے خلاف الزام ثابت ہوتا ہے،
لہذا اس کی سزا برقرار رکھی جاتی ہے، جبکہ اعظم نعیم کے خلاف شواہد میں موجود شکوک و شبہات کے باعث اسے شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ فوجداری قانون کا بنیادی اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہر صورت ملزم کو دیا جائے، اسی بنیاد پر محمد اعظم کی اپیل جزوی طور پر جبکہ اعظم نعیم کی اپیل منظور کر لی گئی۔









