"سمال اینڈ میڈیم کاروبار ملکی معیشت، روزگار کے فروغ اور صنعتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، ان کی مضبوطی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون ناگزیر ہے۔”
سمیڈا کی جانب سے راولپنڈی میں عالمی یومِ ایم ایس ایم ای 2026 کے موقع پر اسٹیک ہولڈر انگیجمنٹ سیشن کا انعقاد

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 27 جون (اے پی پی):سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نےراولپنڈی چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے عالمی یومِ ایم ایس ایم ای 2026 کے موقع پر راولپنڈی میں ایک اسٹیک ہولڈر انگیجمنٹ سیشن کا انعقاد کیا۔
اس تقریب میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (MSMEs)، کاروباری شخصیات، چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں کے نمائندگان، خواتین کاروباری افراد، نوجوان کاروباری افراد، مالیاتی اداروں، تعلیمی حلقوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جدت کے فروغ میں ایم ایس ایم ایز کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔صدرراولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عثمان شوکت نے بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں شرکت کی اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں کاروباری سرگرمیوں اور ادارہ جاتی ترقی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت کو فروغ دینے اور جامع معاشی ترقی میں ایم ایس ایم ایز کے کردار کو سراہا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ آفیسر سمیڈا محمّد اصغر ناصرنے عالمی یومِ ایم ایس ایم ای کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور شرکاء کو سمیڈا کے مینڈیٹ، خدمات اور ایم ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت کام کرنے والی سمیڈا کاروباری ترقی کی خدمات، کاروباری رہنمائی، پالیسی معاونت، مالیاتی سہولیات تک رسائی، کلسٹر ڈویلپمنٹ، برآمدات کے فروغ اور استعداد کار میں اضافے کے پروگراموں کے ذریعے ایم ایس ایم ایز کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔اپنے خطاب میں صدرراولپنڈی چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری عثمان شوکت نے کہا کہ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور روزگار، جدت اور معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایم ایس ایم ای شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کاروباری افراد کی معاونت اور کاروباری برادری کے ساتھ مکالمے کے لیے مؤثر پلیٹ فارمز فراہم کرنے پر سمیڈا کی کاوشوں کو سراہا۔شرکاء نے بھی کاروباری افراد کی معاونت اور ایم ایس ایم ای ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سمیڈا کی کوششوں کو سراہا۔ انٹرایکٹو سیشن کے دوران شرکاء نے ضلع میں ایم ایس ایم ایز کو درپیش اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جن میں [مالیاتی سہولیات تک رسائی / کاروباری رجسٹریشن و دستاویزی عمل / برآمدات کا فروغ / ضابطہ جاتی چیلنج / ڈیجیٹلائزیشن / دیگر مقامی مسائل] شامل تھے۔اس سیشن نے شرکاء کو کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور مقامی کاروباری اداروں کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرنے کا بھی موقع فراہم کیا۔عالمی یومِ ایم ایس ایم ای ہر سال 27 جون کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت منایا جاتا ہے تاکہ پائیدار ترقی، جدت، روزگار اور معاشی خوشحالی کے حصول میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے اہم کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔تقریب کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں، ادارہ جاتی ترقی اور روزگار کے مواقع کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ فریق باہمی تعاون کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔








