"پاکستان کارپٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اکتوبر میں شیڈول عالمی نمائش کے لیے غیر ملکی خریداروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک سے رابطے جاری ہیں۔”
اکتوبر میں شیڈول عالمی نمائش کےلئے غیر ملکی خریدار رابطے کر رہے ہیں، پاکستان کارپٹ ایسوسی ایشن
اسلام آباد۔28جون (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ رواں سال اکتوبر میں لاہور میں شیڈول ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش کے لیے فنڈز کے اجرا میں تاخیر باعث تشویش ہے ، قیمتی زرمبادلہ کمانے والی قدیم برآمدی صنعت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے،عالمی نمائش کے انعقاد میں صرف تین ماہ باقی رہ گئے ہیں ، فنڈ کے اجرا میں تاخیر سے تیاریاں متاثر ہو رہی ہیں اور مینو فیکچررز سمیت برآمد کنندگان بھی مسائل کا شکار ہیں ۔
واضح رہے کہ عالمی نمائش ہر سال لاکھوں ڈالر کے برآمدی معاہدوں اور نئے عالمی خریداروں تک رسائی کا اہم ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان کارپٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عتیق الرحمن، پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک ،چیئرمین ایگزیبیشن ریاض احمد ، کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن اعجاز الرحمن ، سینئر ممبران عثمان اشرف، میجر (ر) اختر نذیر اور سعید خان نے اتوار کو جاری اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ عالمی نمائش کے انعقاد میں محض تین ماہ کا وقت رہ گیا ہے لیکن فنڈز کے اجراء میں تاخیر کی وجہ سے نمائش میں شرکت کرنے والے غیر ملکی خریداروں سے باضابطہ رابطوں اور ہاسپیٹلٹی پیکج کی پیشکش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خریداررابطے کر کے عالمی نمائش کے انعقاد کے حوالے سے استفسار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا روایتی حریف ملک بھی نمائش کا انعقاد کرتا ہے اور غیر ملکی خریدار دونوں ممالک کی نمائشوں کی تاریخوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے سفر کی منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن رواں سال عالمی خریدار تذبذب کا شکار ہیں اور غیر ملکی خریداروں کی کم تعداد کی نمائش میں شرکت سے منفی نتائج کا خدشہ ہے ۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اعلیٰ حکام سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے بلاتاخیر مثبت پیشرفت کی جائے تاکہ پاکستان عالمی نمائش کے انعقاد کی تیاریاں شروع کر سکے جو ہماری صنعت اور خصوصاً برآمدات کے لئے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے ۔








