الشفا ٹرسٹ نے کہا ہے کہ ملک میں موتیا کے مریضوں کی تعداد صحت کے موجودہ نظام کی استعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے پیش نظر پاکستان میں 2030 تک اس صلاحیت کو پورا کرنے کیلئے ہر سال کم از کم 18 لاکھ 40 ہزار موتیا کے آپریشن درکار ہوں گے جس کے لئے سرکاری شعبہ کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
الشفاء ٹرسٹ ہر سال 60000 موتیا کے آپریشن کرتا بے، ڈاکٹر صبیح الدین

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 28 جون (اے پی پی):الشفا ٹرسٹ نے کہا ہے کہ ملک میں موتیا کے مریضوں کی تعداد صحت کے موجودہ نظام کی استعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے پیش نظر پاکستان میں 2030 تک اس صلاحیت کو پورا کرنے کیلئے ہر سال کم از کم 18 لاکھ 40 ہزار موتیا کے آپریشن درکار ہوں گے جس کے لئے سرکاری شعبہ کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت زیادہ تر مریض فلاحی اداروں اور نجی اسپتالوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے شعبہ موتیا کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موتیا کے مریضوں کی تعداد صحت کے موجودہ نظام کی استعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
الشفا ٹرسٹ اپنے اسپتالوں اور آؤٹ ریچ پروگرامز کے ذریعے ہر سال تقریباً 60 ہزار موتیا کے آپریشن کرتا ہے تاہم مریضوں کی بڑھتی تعداد کے مقابلے میں یہ استعداد ناکافی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اندازاً 5 لاکھ 70 ہزار بالغ افراد موتیا کے باعث نابینا ہیں جبکہ 35 لاکھ 60 ہزار افراد بینائی کی کمزوری کا شکار ہیں۔ ملک میں موتیا کے 42.4 فیصد آپریشن نجی اسپتالوں، 39.9 فیصد غیر سرکاری تنظیموں جبکہ صرف 17.7 فیصد سرکاری اسپتالوں میں کیے جاتے ہیں۔ کم آمدنی والے مریض بڑی حد تک فلاحی اداروں کی خدمات پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماہر امراض چشم کی کمی بھی نظام پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔ پاکستان میں دس لاکھ افراد کیلئے صرف 15 ماہر امراض چشم موجود ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
الشفا ٹرسٹ ہر سال تقریباً 20 نئے ماہرین کو تربیت دیتا ہے تاہم ملک کو اس سے کہیں زیادہ ماہرین کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ ذیابیطس بھی موتیا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔ پاکستان میں اس وقت 3 کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں اور اس میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ علاج کی لاگت بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ 76.1 فیصد مریضوں نے مالی مشکلات کو آپریشن میں تاخیر کی بنیادی وجہ قرار دیا۔خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ نقل و حرکت کی پابندیاں، مالی فیصلوں میں محدود اختیار اور علاج تک دیر سے رسائی اہم وجوہات ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے زور دیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں آنکھوں کے معمول کے معائنے اور ذیابیطس کے مریضوں کیلئے موتیا کی باقاعدہ اسکریننگ کو یقینی بنانا چاہیے۔ اگر اس شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ نہ کیا گیا تو قابل علاج نابینائی کا شکار افراد کی تعداد مسلسل بڑھتی رہے گی۔








