پاکستان نے 2030 تک سعودی عرب میں دس لاکھ ورک فورس بھیجنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو ایک طویل المدتی ورک فورس ڈویلپمنٹ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان لیبر موبیلٹی، انسانی سرمائے کی ترقی اور معاشی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، یہ ہدف سعودی۔پاکستان اکنامک کوآپریشن فریم ورک کے تحت تیار کردہ ہیومن …
پاکستان نے 2030 تک سعودی عرب میں دس لاکھ ورک فورس بھیجنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو ایک طویل المدتی مدتی ورک فورس ڈویلپمنٹ حکمت عملی کا حصہ ہے

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جون (اے پی پی):پاکستان نے 2030 تک سعودی عرب میں دس لاکھ ورک فورس بھیجنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو ایک طویل المدتی ورک فورس ڈویلپمنٹ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان لیبر موبیلٹی، انسانی سرمائے کی ترقی اور معاشی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، یہ ہدف سعودی۔پاکستان اکنامک کوآپریشن فریم ورک کے تحت تیار کردہ ہیومن ریسورس ڈیپلائیمنٹ پلان (2039۔2025) کا حصہ ہے۔ یہ پلان دونوں ممالک کے درمیان لیبر تعاون کو سعودی عرب کے ویژن 2030 کے مطابق مؤثر طریقے سے منظم کرتا ہے۔ پلان کے تحت سالانہ بیرونِ ملک بھیجے جانے والے مزدوروں کی تعداد کو 2039 تک 15 لاکھ 10 ہزار تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے ہنر مند، نیم ہنر مند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت کا منظم پائپ لائن تیار کیا جائے گا۔نشاندہی کردہ شعبوں میں تعمیرات، ہوٹل اور ٹورزم، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ایوی ایشن اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔
سعودی عرب پاکستانی مزدوروں کا سب سے بڑا مقام رہا ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 2025 کے دوران 762,499 پاکستانی مزدور بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہوئے، جن میں سے 530,256 یعنی 69.54فیصد سعودی عرب گئے۔ سرکاری چینلز کے ذریعے بیرونِ ملک جانے والے 96 فیصد سے زائد پاکستانی مزدور گلف کوآپریشن کونسل ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کام کر رہے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق، سعودی عرب کے ویژن 2030 نے انفراسٹرکچر، تعمیرات اور سروسز کے شعبوں میں روزگار کے مواقع کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے، جس کی وجہ سے سعودی عرب پاکستانی مزدوروں کا سب سے بڑا بیرونِ ملک لیبر مارکیٹ بنا ہوا ہے۔
ہنر مند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کی ورک فورس ڈیولپمنٹ حکمت عملی سعودی عرب کے بڑے میگا اور گیگا پروجیکٹس کے مطابق بنائی جا رہی ہے۔ پاکستان تعمیرات، ہوٹل، صحت، آئی سی ٹی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں تربیتی پروگراموں کو مضبوط بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ سعودی مارکیٹ کے لیے مستقل طور پر قابلِ کارکن دستیاب رہیں۔ فریم ورک میں پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا سلسلہ بھی شامل ہے، جس میں باہمی اعتراف معاہدے نیوٹیک اور سعودی تربیتی اداروں کے ساتھ کوالیفیکیشن ہم آہنگی، ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ انٹیگریشن اور آجر سے منسلک بھرتی کے ماڈلز شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق، پاکستان نے سعودی عرب کی شرکت کے لیے 38 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فریم ورک تجویز کیا ہے، جس میں 27 ارب ڈالر ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اور 10 ارب ڈالر اعلیٰ تعلیم کے لیے ہیں۔
اس تجویز کا مقصد ڈیمانڈ ڈرِیوَن تربیتی انفراسٹرکچر، اسکل سٹیز اور مشترکہ تعلیمی ادارے قائم کرنا ہے تاکہ ابھرتی ہوئی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مزدور تیار کیے جا سکیں۔دستاویزات اس اقدام کے تحت ابتدائی پیش رفت کو نمایاں کرتی ہیں، جن میں 25۔2024 کے دوران 70 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں اور خطوطِ ارادہ پر دستخط، ہیومن ریسورسز اینڈ لیبر سروسز ایکسپو کے بعد 4,700 سے زائد مزدوروں کی تعیناتی اور سعودی اداروں جیسے تکامل، مساند اور ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کارپوریشن (ٹیوٹیک) کے ساتھ تعاون میں اضافہ شامل ہے۔
سعودی عرب کو لیبر ایکسپورٹ کی حمایت کے علاوہ، پاکستان مستقبل کے بین الاقوامی مواقع کے ساتھ ورک فورس پلاننگ کو ہم آہنگ کر رہا ہے، جن میں فیفا ورلڈ کپ 2034 کی تیاریاں شامل ہیں۔ حکمت عملی کے تحت 2026 سے 2034 کے درمیان انفراسٹرکچر، ایوی ایشن، ٹورزم اور متعلقہ سروسز کے شعبوں کے لیے 3 لاکھ سے 4 لاکھ مزدوروں کی تربیت اور تعیناتی کا ہدف رکھا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق، اس اقدام سے اعلیٰ ہنر مند اور زیادہ ترسیلاتِ زر والے بیرونِ ملک روزگار کی طرف آہستہ آہستہ منتقلی کی سہولت ملے گی اور سعودی عرب کے لیے پاکستان کی حیثیت کو ترجیحی ورک فورس پارٹنر کے طور پر مزید مضبوط کیا جائے گا۔








