پاکستان نے خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ریئل ٹائم ڈیٹا رپورٹنگ سسٹمز، استعداد کار میں اضافے اور قانونی اصلاحات متعارف کرانے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ خدمات کی فراہمی اور شفافیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے
حکومت نے خاندانی منصوبہ بندی و تولیدی صحت کی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):پاکستان نے خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ریئل ٹائم ڈیٹا رپورٹنگ سسٹمز، استعداد کار میں اضافے اور قانونی اصلاحات متعارف کرانے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ خدمات کی فراہمی اور شفافیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق الیکٹرانک کلائنٹ ریکارڈ (ای سی آر) سسٹم کا نفاذ آبادی بہبود کی خدمات کو جدید بنانے اور خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کی مؤثر نگرانی کی جانب اہم پیشرفت ہے۔رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 213 سروس فراہم کنندگان کو ای سی آر سسٹم پر تربیت دی جا چکی ہے جو اب خدمات کی فراہمی سے متعلق ڈیٹا ریئل ٹائم میں رپورٹ کر رہے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد ڈیٹا کی درستگی میں اضافہ، شفافیت کو مضبوط بنانا اور تولیدی صحت کی خدمات کی مؤثر نگرانی ممکن بنانا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روایتی رپورٹنگ نظام سے ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانب منتقلی خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کے انتظام میں بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔نئے نظام کے تحت خدمات کی فراہمی سے متعلق معلومات کو فوری طور پر ریکارڈ اور مانیٹر کیا جا سکتا ہے جس سے متعلقہ ادارے پروگرام کی کارکردگی کا مؤثر انداز میں جائزہ لے سکیں گے اور خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں کی بروقت نشاندہی کر سکیں گے۔رپورٹ کے مطابق حکومت کو توقع ہے کہ 2026 کے اختتام تک ای سی آر سسٹم کے ذریعے خدمات سے متعلق 100 فیصد ڈیٹا ریئل ٹائم میں رپورٹ کیا جا رہا ہوگا۔رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کے آغاز میں خصوصاً فیلڈ عملے کی جانب سے سافٹ ویئر کو سمجھنے اور استعمال کرنے کے حوالے سے بعض مشکلات کا سامنا رہا، تاہم اس منتقلی کو آسان بنانے کے لیے مسلسل استعداد کار بڑھانے، ریفریشر تربیتی پروگراموں اور تکنیکی معاونت کے نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے پالیسی ساز آبادی اور تولیدی صحت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے شواہد پر مبنی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں ڈیٹا مینجمنٹ اور رپورٹنگ نظام کو بہتر بنانا مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، یہ اقدام خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کو جدید بنانے اور تولیدی صحت سے متعلق معلومات اور سہولیات تک عوام کی رسائی بہتر بنانے کی وسیع حکومتی کوششوں کا حصہ ہے ، ڈیجیٹل اصلاحات کے ساتھ ساتھ حکومت تولیدی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے قانون سازی بھی کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل کو صوبائی کابینہ سے منظوری مل چکی ہے اور اب اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جانا باقی ہے، مجوزہ قانون کا مقصد خدمات حاصل کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے جن میں رازداری، ذاتی معلومات کا تحفظ، باخبر انتخاب، ادویات و طبی اشیا کی دستیابی اور معیاری تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی شامل ہے۔
قانون کی منظوری کے بعد توقع ہے کہ تولیدی صحت سے متعلق حقوق کے تحفظ اور خدمات کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط قانونی فریم ورک میسر آئے گا۔رپورٹ میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور میڈیا کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ آبادی بہبود کے ادارے باقاعدگی سے اپنی سرکاری ویب سائٹس کو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں جبکہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق معلومات بھی عوام تک پہنچائی جا رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی خدمات کی نگرانی، شفافیت میں اضافے ، سروس فراہم کرنے والوں اور پالیسی سازوں کے درمیان مؤثر رابطے کے فروغ میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ ریئل ٹائم رپورٹنگ سسٹمز کے ذریعے حکام ابھرتے ہوئے مسائل پر زیادہ تیزی سے ردعمل دے سکیں گے، پروگراموں کی مؤثریت کا بہتر انداز میں جائزہ لے سکیں گے اور معیاری ڈیٹا کی بنیاد پر زیادہ مؤثر فیصلے کر سکیں گے۔








