سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی او) کے لیے 10 کمپنیوں کو منظوری دی ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ابتدائی عوامی پیشکشوں کیلئے 10 کمپنیوں کو منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی او) کے لیے 10 کمپنیوں کو منظوری دی ہے۔ پیر کو جاری پریس ریلیز کے مطابق جنوری تا جون کے دوران لسٹ ہونے والی 9 کمپنیوں نے حصص کی عوامی پیشکش کے ذریعے 20 ارب روپے سے زائد سرمایہ حاصل کیا جبکہ ایل ایس ای سپیک ٹو کے آئی پی او کی بک بلڈنگ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان سٹاک ایکسچینج کی کارکردگی خطے کی بیشتر سٹاک ایکس چینجز سے بہتر رہی۔ 2026ء کی پہلی ششماہی میں آئی پی اوز کی مضبوط رفتار پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔
یہ کامیابی ایس ای سی پی کی اصلاحات کا بھی نتیجہ ہے جن کے ذریعے قواعد و ضوابط کو آسان بنایا گیا، کمپنیوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا سہل ہوا اور مزید کاروباری اداروں کو کیپٹل مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کی ترغیب ملی۔ یہ آئی پی اوز مینوفیکچرنگ، پٹرولیم، ڈیری، اسلامی مالیات، پولٹری، رئیل اسٹیٹ اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کے بڑھتے ہوئے تنوع اور وسعت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ نے نوری آباد میں مسافر گاڑیوں کے ٹائروں کی جدید مینوفیکچرنگ سہولت کے قیام کے لیے 7.77 ارب روپے حاصل کیے۔ ستارہ پٹرولیم نے 4.83 ارب روپے اکٹھے کیے جبکہ اس کا آئی پی او صرف آٹھ منٹ میں مکمل طور پر سبسکرائب ہوگیا اور دستیاب شیئرز کے مقابلے میں سات گنا زیادہ طلب موصول ہوئی۔ غنی ڈیریز نے 3.44 ارب روپے حاصل کر کے پاکستان کی پہلی لسٹڈ کارپوریٹ ڈیری فارم کمپنی بننے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ وحدت پولٹری نے کاروباری توسیع کے لیے تقریباً 1 ارب روپے جمع کیے۔
پاکستان کی پہلی لسٹڈ نان لائف تکافل کمپنی پاک قطر جنرل تکافل کے آئی پی او کو غیر معمولی پذیرائی ملی جہاں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی طلب پیش کیے گئے شیئرز سے 21 گنا زیادہ رہی جبکہ 13 ہزار سے زائد ریٹیل سرمایہ کاروں نے بھی اس میں حصہ لیا۔ اسی عرصے کے دوران سگنیچر ریزیڈنسی REIT اور جے ایس رینٹل REIT کی کامیاب لسٹنگ سے عوام کو پیشہ ورانہ انداز میں منظم رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع میسر آئے۔ پاکستان کی پہلی ایل ایس ای سپیک-I بھی لسٹ ہوئی جبکہ ایل ایس ای سپیک-II کو ایس ای سی پی کی منظوری حاصل ہوئی۔ سلیکٹ ٹیکنالوجیز کی لسٹنگ نے بھی پاکستان کے ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو اجاگر کیا۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد صدیق نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کمیشن لسٹنگ کے عمل کو مزید آسان بنانے اور سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کو زیادہ سہل اور عوام کی دسترس میں لانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی کا مقصد سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ، زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو ملکی ترقی میں شریک کرنا اور کیپٹل مارکیٹ کو سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے ایک موثر ذریعہ کے طور پر مزید مضبوط بنانا ہے۔








