عالمی برادری پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بھارتی اقدامات کا نوٹس اوربین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر اسے جوابدہ ٹھہرائے،خرم دستگیر خان

عالمی برادری پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بھارتی اقدامات کا نوٹس اوربین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر اسے جوابدہ ٹھہرائے،خرم دستگیر خان

اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):سابق وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر خان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے اقدامات کا نوٹس لے اور اسے بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے،سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور اس کے بعد کیے گئے اقدامات نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کوچیلنج کیا بلکہ دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرنے والے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔وہ منگل کو اسلام آباد میں ’’سندھ طاس معاہدہ 2026: امن اور علاقائی استحکام کا ایک موثر ذریعہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع ’’سندھ طاس معاہدہ بطور پائیدار قانونی و ادارہ جاتی فریم ورک‘‘ تھا۔

خرم دستگیر نے امریکی مصنف ہینری ڈیوڈ تھورو کا یہ قول نقل کیا کہ ’’ہمارے اندر کی زندگی دریا کے پانی کی مانند ہے‘‘ اور کہا کہ وہ ’’زندہ دریائوں‘‘ کے حق میں آواز اٹھانے اور ان عناصر کے خلاف مقدمہ پیش کرنے آئے ہیں جو تہذیب، بین الاقوامی قانون اور انسانیت کو سزا دینے کے لیے دریائوں کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے 25 اپریل 2025ء کو سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرکے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی اپنائی، حالانکہ یہ معاہدہ چار مکمل جنگوں اور دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان 65 برس کی کشیدگی کے باوجودبرقرار رہا۔انہوں نے کہا کہ معاہدے میں اسے معطل کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔خرم دستگیر نے کہا کہ اس اعلان کے بعد بھارتی قیادت کی جانب سے متعدد بیانات سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر آبی وسائل نے کہا کہ دریائے سندھ کے نظام کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گاجبکہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتےجبکہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی حالیہ دنوں میں معاہدے کی بحالی کو مسترد کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدہ معطل کیے جانے کے بعد بھارت نےپاکستان کو ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا اور سیلابی اطلاعات کی فراہمی روک دی، مغربی دریائوں کا پانی روکنے اور موڑنے کی حکمت عملی اختیار کی، بگلیہار اور سلال ڈیم کے گیٹس بند کیے اور مختلف آبی ذخائر سے ایسے اقدامات کیے جن سے دریائے چناب کے بہائو پر اثر پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگست اور ستمبر 2025ء میں بغیر پیشگی اطلاع دریائوں راوی، چناب اور ستلج میں پانی چھوڑنے سے تقریباً 47 لاکھ پاکستانی سیلاب سے متاثر ہوئے۔خرم دستگیر نے کہا کہ ایک بھارتی سرکاری عہدیدار نے مبینہ طور پر انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا کہ دریائے چناب کے پانی کی عارضی بندش ’’سزا دینے‘‘ اور پاکستان پر دبائو ڈالنے کے لیے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی پاکستان کے تقریباً 20 کروڑ عوام، زراعت، ماحولیات اور دریائی حیات کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پانی کو روک کر کسی ہمسایہ ملک کی آبادی کو بنیادی انسانی حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ، جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی قوانین کی روح کے منافی اقدام تصور کیا جا سکتا ہے۔

خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان کا موقف بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے۔ انہوں نے جون 2025ء میں ثالثی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے قرار دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں دیتا اور عدالت نے اپنے دائرۂ اختیار کی بھی توثیق کی، اگرچہ بھارت نے اس کارروائی میں شرکت سے انکار کیا۔انہوں نے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 62 اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے 1997ء کے گابچیکوو-ناگی ماروش فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی یا دہشت گردی جیسے عوامل سندھ طاس معاہدے کی بنیادی نوعیت تبدیل کرنے کی قانونی بنیاد فراہم نہیں کرتے۔ انہوں نے 1997ء کے اقوام متحدہ کے واٹر کنونشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ دریائوں کے پانی کا منصفانہ اور معقول استعمال بین الاقوامی ذمہ داری ہے اور کسی دوسرے ملک کو نمایاں نقصان پہنچانا ممنوع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی کو بطور ہتھیاراستعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اجتماعی سزا کے زمرے میں آ سکتا ہےجبکہ بڑے پیمانے پر پانی کی قلت پیدا کرنے کی دھمکیاں بعض حالات میں انسانیت کے خلاف جرم کے تناظر میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقدمہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور ماحولیاتی بھی ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، زراعت، خوراک اور تہذیب سے جڑا ہوا ہے۔خرم دستگیر نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں دریائوں کو قانونی حیثیت دی جا رہی ہے اور نیوزی لینڈ میں 2017ء کے قانون کے تحت دریائے وانگانوئی کو ایک قانونی شخصیت تسلیم کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم محض پانی کے ذخائر نہیں بلکہ اس خطے کی روح اور تہذیب کی بنیاد ہیں۔انہوں نےعالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اصول کا دفاع کریں کہ پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا، آبی معاہدے طاقت کے زور پر یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیے جا سکتے اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو سیاسی دبائو کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔اپنے خطاب کے اختتام پر خرم دستگیر نے کہا کہ دریائے سندھ ہزاروں برس سے اس خطے کی تہذیب، زراعت اور انسانی زندگی کو سہارا دیتا آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے دریائوں، اپنی تہذیب اور اپنے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی عدالتوں، عالمی فورمز اور عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنا مقدمہ جاری رکھے گا، یہاں تک کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان کی مذمت ہو، بین الاقوامی قانون کی بالادستی بحال ہو اور انصاف دریائوں کی طرح آزادانہ بہنے لگے۔