وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے انسداد اسلاموفوبیا میگوئیل موراتینوس نے ملاقات کی جس میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحانات اور مذہبی عدم برداشت کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسداد اسلاموفوبیا میگوئیل موراتینوس کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے انسداد اسلاموفوبیا میگوئیل موراتینوس نے ملاقات کی جس میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحانات اور مذہبی عدم برداشت کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان مکالموں، باہمی تعاون، ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ یو این اے او سی کے ساتھ مل کر اس مسئلہ کے تدارک کے لئے کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان میں غیر مسلم آبادی کی درسگاہوں میں داخلوں، نوکریوں اور اسمبلیوں میں نمائندگی کا کوٹہ مختص ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی ونگ کے تحت غیر مسلم عبادت گاہوں کی مرمت و بحالی ، تعلیمی وظائف کا اجراء کر رہے ہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور اقلیتوں کے حقوق اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 11 اگست بطور منیارٹی ڈے منایا جاتا ہے۔پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے سرکردہ رہنمائوں کی مشاورت سے بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی منظور کروائی ہے۔ سرکاری سرپرستی میں غیر مسلم آبادی کے مذہبی تہوار اور بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنسوں کا انعقاد کر رہے ہیں ۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ بھارت میں غیر ہندو اقلیتوں کی حالت زار ، مذہبی آزادی پر پابندی باعث تشویش ہے۔ہمارا دین، آئین پاکستان اور قائد کے فرمودات اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی میگوئیل موراتینوس نے کہا کہ مذہب اور تہذیب کی بنیاد پر نفرت اور جنگ کے تدارک پر کام کر رہے ہیں۔نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ اسلاموفوبیا کی بدترین مثال تھی ۔یو این سیکرٹری جنرل کی ہدایت پر ستمبر 2019ء سے عبادتگاہوں کے تحفظ کے تحفظ پر کام شروع کیا۔ پاکستانی حکومت بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے بہترین کام کر رہی ہے۔








