ڈائریکٹر پیسٹی سائیڈز اینڈ پیسٹ وارننگ کوالٹی کنٹرول سیالکوٹ ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا ہے کہ کماد کے کاشتکار زیادہ اور معیاری پیداوار کے حصول کے لئے فصل کو نقصان دہ کیڑوں کے حملے سے محفوظ رکھنے پر خصوصی توجہ دیں اور محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں
کماد کی فصل کو نقصان دہ کیڑوں سے محفوظ رکھ کر فی ایکڑ بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے،ڈاکٹر مقصود احمد

مزید خبریں
سیالکوٹ۔1جولائی (اے پی پی):ڈائریکٹر پیسٹی سائیڈز اینڈ پیسٹ وارننگ کوالٹی کنٹرول سیالکوٹ ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا ہے کہ کماد کے کاشتکار زیادہ اور معیاری پیداوار کے حصول کے لئے فصل کو نقصان دہ کیڑوں کے حملے سے محفوظ رکھنے پر خصوصی توجہ دیں اور محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں۔اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی جولائی میں گورداسپوری گڑواں بورر کے پروانے نکل آتے ہیں، جن کی سنڈیاں گنے کی گانٹھ کے اوپر تنے کے چھلکے کو حلقے کی شکل میں کاٹ کر سرنگ بنا لیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں گنے کا اوپری حصہ پہلے مرجھا جاتا ہے اور بعد ازاں خشک ہو جاتا ہے، جبکہ تیز ہوا یا معمولی دباؤ سے گنا ٹوٹ کر گر بھی سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ گورداسپوری بورر کا حملہ عموماً ٹکڑیوں کی صورت میں ہوتا ہے، اس لئے کاشتکار جولائی اور اگست کے دوران فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں۔
جہاں حملہ نظر آئے وہاں متاثرہ پودوں کو متاثرہ حصے سے دو سے تین پوریاں نیچے سے کاٹ کر زمین میں دبا دیں، جبکہ شدید حملے کی صورت میں کھیت کو مونڈھا ہرگز نہ رکھا جائے۔ڈاکٹر مقصود احمد نے بتایا کہ گھوڑا مکھی کے بچے اور بالغ پتوں کی نچلی سطح سے رس چوس کر فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ ان کے اخراج سے پتوں پر سیاہ رنگ کی پھپھوندی پیدا ہو جاتی ہے جس سے پودے میں خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھوڑا مکھی کے قدرتی دشمن یعنی طفیلی کیڑوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ ایسے کھیتوں میں جہاں یہ مفید کیڑے وافر مقدار میں موجود ہوں، وہاں سے انڈوں اور کویوں والے تقریباً چھ انچ لمبے پتے کاٹ کر ان متاثرہ کھیتوں میں ٹانک دئیے جائیں جہاں طفیلی کیڑے موجود نہ ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ کماد کی سفید مکھی کے بچے بھی پتوں سے رس چوس کر نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے زیادہ حملے کی صورت میں پتے پیلے ہو کر خشک ہو جاتے ہیں اور فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔
اگر حملہ محدود علاقے تک ہو تو متاثرہ پتوں کو کاٹ کر زمین میں دبا دیا جائے۔ گنے کی اونچائی چھ فٹ ہونے سے پہلے دانے دار زہر استعمال کیا جائے، تاہم فصل پر سپرے کرنے سے گریز کیا جائے اور کھوری ہرگز نہ جلائی جائے تاکہ مفید کیڑے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے کہا کہ نقصان رساں کیڑوں کے کیمیائی تدارک کے لئے محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورے سے مناسب زرعی زہریں استعمال کی جائیں۔ڈاکٹر مقصود احمد نے مزید کہا کہ موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر کماد کی فصل کو 15 سے 20 دن کے وقفے سے آبپاشی کی جائے، کھیت کو زیادہ دیر تک خشک نہ چھوڑا جائے اور بروقت پانی فراہم کیا جائے۔ پانی کی کمی کی صورت میں ایک کھیلی چھوڑ کر آبپاشی کی جائے اور اگلی باری صرف چھوڑی گئی کھیلیوں کو پانی دیا جائے تاکہ دستیاب پانی کا مؤثر استعمال ممکن ہو۔








