متحدہ عرب امارات کا دہشت گرد وں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

متحدہ عرب امارات نے دہشت گرد تنظیموں اور انتہا پسند گروہوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) اور نئی و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

نیو یارک۔2جولائی (اے پی پی):متحدہ عرب امارات نے دہشت گرد تنظیموں اور انتہا پسند گروہوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) اور نئی و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ بات متحدہ عرب امارات کی حکومت کے سائبر سکیورٹی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر محمد الکویتی نے اقوام متحدہ کی انسدادِ دہشت گردی کے چوتھے ہفتے (26 جون تا 2 جولائی) کے دوران منعقدہ اعلیٰ سطحی انسدادِ دہشت گردی کانفرنس کے دوران کہی۔ اقوام متحدہ کی انسدادِ دہشت گردی کا چوتھا ہفتہ 26 جون تا 2 جولائی تک جاری ہے ۔ یو اے ای حکومت کے سربراہ برائے سائبر سکیورٹی ڈاکٹر محمد الکویتی نے کانفرنس کے چوتھے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور سائبر سپیس میں تیز رفتار ترقی نے حکومتوں کو خطرات کی نشاندہی، اہم تنصیبات کے تحفظ اور معاشروں کی سلامتی بہتر بنانے کے جدید ذرائع فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد سائبر اسپیس کے قیام پر زور دیا جو عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کی کوششوں میں معاون ثابت ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ انہی ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا پھیلانے، افراد کی بھرتی اور انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے، گمراہ کن مصنوعی میڈیا تیار کرنے اور سرحد پار کارروائیاں کر کے نگرانی سے بچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اس لیے ان ٹیکنالوجیز کی محفوظ، ذمہ دارانہ اور قابلِ اعتماد ترقی اور استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ سائبر سپیس کے لیے مضبوط قومی اداروں کی تشکیل ضروری ہے جو ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف جدید ٹیکنالوجی کافی نہیں بلکہ اس کے سا تھ مضبوط ادارے، تربیت یافتہ افرادی قوت، محفوظ ڈیٹا، موثر ضابطہ کار، مضبوط سائبر انفراسٹرکچر اور مربوط ادارہ جاتی نظام بھی لازم ہیں تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے پائیدار صلاحیت سازی بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ قومی ٹیلنٹ میں سرمایہ کاری، عملی مہارتوں کا تبادلہ، تکنیکی شراکت داری اور قومی سائبر و ڈیجیٹل استحکام کو فروغ دینا مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سائبر خطرات کسی سرحد کو نہیں مانتے اس لیے حکومتوں، اقوام متحدہ، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری کو مزید وسعت دی جانی چاہیے تاکہ مہارتوں کا تبادلہ، قومی صلاحیت سازی اور مصنوعی ذہانت و سائبر صلاحیتوں کا استعمال بین الاقوامی قانون خصوصاً انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔ کانفرنس کے دوران متحدہ عرب امارات نے اپنا جامع قومی سائبر سکیورٹی فریم ورک بھی پیش کیا، جس کا مقصد سائبر خطرات سے نمٹنے کی قومی تیاری کو مضبوط بنانا، اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا تحفظ اور قومی سائبر دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر محفوظ، قابلِ اعتماد اور مضبوط ڈیجیٹل ماحول کے قیام اور مصنوعی ذہانت و نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیتا رہے گا تاکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں اور علاقائی و بین الاقوامی امن، سلامتی اور استحکام کو مزید تقویت مل سکے۔