کاروبار کرنے والی خواتین کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کےلئے پرعزم ہیں ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاور کے وفد سے گفتگو

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت کاروبار کرنے والی خواتین کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے میں پرعزم ہے،خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری ادارے پاکستان کی معاشی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت کاروبار کرنے والی خواتین کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے میں پرعزم ہے،خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری ادارے پاکستان کی معاشی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاور کے وفد سے ملاقات میں کہی،وفد کی قیادت چیمبر کی صدر قراۃ العین کر رہی تھیں جبکہ سینئر نائب صدر زارا امتیاز اور سیکریٹری جنرل صبا ہدایت بھی وفد میں شامل تھیں۔ وفد نے وزیر خزانہ کو خیبر پختونخوا میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے چیمبر کی مختلف کاوشوں سے آگاہ کیا۔ ان اقدامات میں پالیسی سازی کے حوالے سے موثر نمائندگی ،ایڈووکیسی ، استعداد کار میں اضافہ، نئے کاروباری منصوبوں کی سرپرستی، مہارتوں کی ترقی، دستکاری، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، قیمتی پتھروں اور زیورات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بیوٹی مصنوعات سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں میں خواتین کاروباری افراد کی معاونت شامل ہے۔

ملاقات میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، مالیاتی شمولیت میں اضافے، کاروباری خواتین کی مالی وسائل تک رسائی کو بہتر بنانے اور خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباروں کے لیے مزید معاشی مواقع پیدا کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے باضابطہ مالیاتی نظام، بینکاری سہولتوں، منڈیوں تک رسائی، لاجسٹکس، مصنوعات کی سرٹیفکیشن اور کاروباری ترقی کے لیے درکار معاونت سے متعلق اپنے خیالات اور تجاویز بھی پیش کیں۔ اس کے علاوہ خواتین کی ملکیت والے کاروباری اداروں کے لیے پالیسی فریم ورک کو مزید موثر بنانے اور انہیں رسمی معیشت کا زیادہ فعال حصہ بنانے سے متعلق سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ وزیر خزانہ نے ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاور کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خواتین کاروباری افراد کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری ادارے پاکستان کی معاشی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بڑھانا، انہیں معیاری تعلیم تک بہتر رسائی فراہم کرنا، ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی کو فروغ دینا اور انہیں مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کرنا پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے ،ان اہداف کے حصول کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے اشتراک سے طویل المدتی قومی حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔ وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کے فروغ کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سماجی تحفظ کے تحت دی جانے والی مالی معاونت کی ادائیگی بتدریج ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہے تاکہ خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنایا جا سکے اور وہ اپنے مالی معاملات پر زیادہ موثر کنٹرول حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی اور جدید مالیاتی خدمات تک رسائی آئندہ بھی ملک بھر میں خواتین کے لیے معاشی مواقع میں اضافے کا بنیادی ذریعہ بنی رہے گی ۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے بے پناہ امکانات کا بھی ذکر کیا

اور ویمن چیمبر پر زور دیا کہ وہ خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں بالخصوص نوجوان خواتین کی اپ سکلنگ اور ری سکلنگ پر توجہ دے تاکہ وہ عالمی منڈی میں موثر انداز سے مقابلہ کر سکیں اور ملک کی برآمدی آمدنی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سازگار پالیسی ماحول فراہم کرکے کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی تاہم سرمایہ کاری، جدت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں نجی شعبے کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔وفد نے وزیر خزانہ کا تعمیری اور مثبت تبادلہ خیال پر شکریہ ادا کیا اور خواتین کاروباری افراد کی معاونت کے لیے حکومت کے مسلسل تعاون کو سراہا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے، مالیاتی شمولیت کو مزید وسعت دینے اور نجی شعبے کی قیادت میں جامع اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے عملی اقدامات پر باہمی رابطہ اور تعاون جاری رکھا جائے گا۔