اصلاحات کے طویل المدت ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے وفد سے گفتگو
اصلاحات کے طویل المدت ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت اصلاحات کے طویل المدت ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف،عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے وفد سے ملاقات میں کہی،وفد میں ادارے کے ڈائریکٹر برائے ساورن ریٹنگ یی فارن فوا اور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر جیولیا فلوکا شامل تھیں۔ ملاقات میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل، معیشت کے مجموعی منظرنامے اور حکومت کے جامع اقتصادی اصلاحاتی پروگرام پر ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے معاشی بنیادی اشاریوں میں نمایاں بہتری پرروشنی ڈالی اور کہا کہ مضبوط اقتصادی نمو، مالیاتی نظم و ضبط، سرکاری قرضوں کے زیادہ پائیدار ڈھانچے اور بیرونی شعبے کی بڑھتی ہوئی مضبوطی سے ملکی معیشت کو استحکام ملاہے ، مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ ترقی دوست اور مالیاتی ذمہ داری کے اصولوں پر مبنی ہے جو معیشت کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ دانشمندانہ معاشی حکمت عملی، پالیسیوں پر موثر اور منظم عمل درآمد اور مسلسل ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں نمایاں استحکام آیا ہے ،ان اصلاحات کی بدولت مہنگائی میں خاطر خواہ کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، بیرونی شعبے کی مضبوطی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بحالی اور مالیاتی و بیرونی شعبے کے اہم اشاریوں میں مسلسل بہتری دیکھنے میں آئی ہے، حالانکہ خطے اور عالمی سطح پر معاشی حالات اب بھی چیلنجنگ ہیں۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے سرکاری قرضوں کی صورت حال میں بہتری کا بھی تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں قرضوں کے تناسب میں مسلسل کمی آ رہی ہے جبکہ مرکزی حکومت کے قرضوں میں اضافے کی رفتار گزشتہ تقریبا پندرہ برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے ، واجبات کے موثر انتظام، قرضوں کی قبل از وقت واپسی ، مقامی قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع، تاریخی طور پر کم مالیاتی خسارے اور ریکارڈ پرائمری سرپلس کے حصول نے ملکی مالیاتی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے ،محصولات میں اضافے اور سرکاری اخراجات کے محتاط انتظام نے مالیاتی پائیداری کو تقویت دی ہے اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ اہلیت کی بنیادوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
وفد کو حکومت کے جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے پروگرام سے بھی آگاہ کیا گیا جس کا محور ٹیکس نظام، توانائی کا شعبہ، سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاح، نجکاری، بہتر طرز حکمرانی اور سرکاری مالیاتی نظم و نسق ہے تاکہ نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا اصلاحات کا ایجنڈا جس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے توسیعی فنڈ سہولت اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات بھی شامل ہیں، کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے، پروگرام کے جائزے کامیابی سے مکمل ہوئے ہیں اور تمام اہم اصلاحاتی اہداف بروقت حاصل کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت ملک کے طویل المدتی اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف، عالمی بینک ،ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے وفد نے پاکستان کی معاشی استحکام کے حصول میں ہونے والی پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط، قرضوں کی پائیداری، بیرونی شعبے کی مضبوطی اور ساختی اصلاحات کے حوالے سے حکومت کے عزم کو سراہا۔
وفد نے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کے ساتھ پاکستان کی درمیانی مدت کی معاشی صورتحال، اصلاحاتی ترجیحات اور ملک کی خودمختار کریڈٹ پروفائل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اختیار کیے جانے والے اقدامات پر بھی تعمیری اور مفید تبادلہ خیال کیا۔








