اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاسکو کے ملازمین کے لیے 4 ارب 18 کروڑ 80 لاکھ روپے کے سیورنس پیکیج کی منظوری دیدی
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاسکو کے ملازمین کے لیے 4 ارب 18 کروڑ 80 لاکھ روپے کے سیورنس پیکیج کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے ملازمین کے لیے 4 ارب 18 کروڑ 80 لاکھ روپے کے سیورنس پیکیج کی منظوری دیدی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں غذائی تحفظ، عوامی شعبے میں اصلاحات اور پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں اور ذمہ داریوں سے متعلق مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کی گئی متعدد سمریوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کی گئی اس سمری کی منظوری دی گئی جس کے تحت پاسکو کے سیلاب سے متاثرہ 8197.989 میٹرک ٹن گندم کو کھلی، شفاف اور مسابقتی بولی کے ذریعے نیلام کیا جائے گا۔ یہ نیلامی کسی آزاد فریق (تھرڈ پارٹی) کی توثیق سے مشروط ہوگی تاکہ مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے، خراب شدہ گندم کے ذخائر کو شفاف انداز میں ٹھکانے لگایا جا سکے اور پاسکو کی تنظیم نو اور مرحلہ وار تحلیل کے عمل میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
کمیٹی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کردہ ایک اور سمری بھی منظور کی جس کے تحت پاسکو کے ملازمین کے لیے 4 ارب 18 کروڑ 80 لاکھ روپے کے سیورنس پیکیج کی منظوری دی گئی۔ یہ رقم ادارے کی مرحلہ وار بندش کے عمل کے تحت اہل ملازمین کو معاوضے اور ریٹائرمنٹ و دیگر واجب الادا مالی مراعات کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جائے گی۔اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے مالیاتی استحکام اور نظم حکمرانی سے متعلق پیش کی گئی سمری پر بھی غور کیا گیا۔
منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے یونیورسٹی کو ہدایت کی کہ وہ آزاد مالیاتی ماہرین کی خدمات حاصل کرے تاکہ ایک جامع، حقیقت پسندانہ اور قابل عمل مالیاتی استحکام کا منصوبہ تیار کیا جا سکے جو یونیورسٹی کی طویل المدتی مالی خودکفالت کو یقینی بنانے اور اس کی تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کے تسلسل میں معاون ثابت ہو۔ کمیٹی نے وزارت تجارت کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کی بھی منظوری دی جس کے تحت درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں جبری مشقت کی تعریف شامل کی جائے گی۔
یہ تعریف بین الاقوامی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے جبری مشقت کنونشن 1930 کنونشن نمبر 29 سے ہم آہنگ ہوگی۔ اس ترمیم سے درآمدات سے متعلق پاکستان کے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، بین الاقوامی محنت سے متعلق ذمہ داریوں کی بہتر انداز میں پاسداری ممکن ہوگی اور ملکی تجارتی نظم و نسق کو مزید موثر اور شفاف بنایا جا سکے گا۔
اجلاس میں وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے وفاقی سیکریٹریز، سینئر سرکاری افسران اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔








