ایوب ریسرچ میں اجلاس، نیشنل سیڈ اور زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی2025 کے فریم ورک کی تیاری پر مشاورت کی گئی

ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، فیصل آباد میں ”نیشنل سیڈ اور زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025 فریم ورک، وژن اور مواقع” کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

فیصل آباد۔ 03 جولائی (اے پی پی):ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، فیصل آباد میں ”نیشنل سیڈ اور زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025 فریم ورک، وژن اور مواقع” کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈاکٹر انجم علی بُٹر، ہیڈ آف ایکسٹرنل کوارڈینیشن یونٹ، محکمہ زراعت پنجاب نے خصوصی شرکت کی جبکہ شبیر احمد خان، ایڈیشنل سیکرٹری (ٹاسک فورس) اور بریگیڈئیر طلحہ افتاب ڈائریکٹرگرین انیشی ایٹو پاکستان نے آن لائن شرکت کی۔ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات آری ڈاکٹر آصف علی کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد انجم علی بُٹر نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد ملکی سطح پر یکساں سیڈ پالیسی کی تیاری و نفاذ کی راہ ہموار کرناہے تاکہ مختلف فصلوں کے معیاری بیج کی دستیابی اورآئی ٹی کی کاشتکار وں تک آسان رسائی ممکن ہوسکے۔ اس حوالے سے پالیسی فریم ورک، مستقبل کے وژن، درپیش چیلنجز اور دستیاب مواقع پر ماہرین، پالیسی سازوں، سائنسدانوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر مشاورت کے فروغ کیلئے یہ اجلاس اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں زراعت تیزی سے بدل رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، کیڑے و بیماریاں، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور محفوظ و معیاری خوراک کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے زرعی نظام کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں معیاری بیج کسان کے لیے سب سے مؤثر اور بنیادی ٹیکنالوجی بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اچھا بیج بہتر جینیاتی خصوصیات، زیادہ پیداوار، بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مدافعت، گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور کسان کے لیے زیادہ منافع کا ضامن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی زراعت میں نمایاں ترقی کی، انہوں نے سب سے پہلے اپنے بیج کے نظام کو مضبوط بنایا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھی اب اسی سمت ایک اہم قدم اٹھا چکا ہے۔گزشتہ دو برسوں کی وسیع مشاورت اور مسلسل کاوشوں کے بعد وفاقی کابینہ نے قومی زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی اور قومی بیج پالیسی کی منظوری دی ہے۔ یہ دونوں پالیسیاں پاکستان کی زراعت کے مستقبل کی تشکیل میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی پہلی مرتبہ جدید زرعی بائیوٹیکنالوجی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے قومی سطح پر عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی اقسام کی تیاری اور فروغ، بیماری سے پاک پودوں کی افزائش کے لیے ٹشو کلچر، بائیوجیکل کھادوں اور زرعی ادویات کے فروغ اور ریسرچ میں جدت کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ہمارے کسانوں کو زیادہ پیداوار، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور بہتر خصوصیات کے حامل بیج دستیاب ہوں گے۔ڈاکٹر انجم علی بُٹرنے واضح کیا کہ قومی بیج پالیسی غیر معیاری اور جعلی بیجوں کے مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ پالیسی بیجوں کے معیار کی نگرانی کو مضبوط بنائے گی، نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے کردار کو مزید مؤثر کرے گی، بیجوں کی فراہمی کے نظام میں ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور ٹریس ایبلٹی کو فروغ دے گی، پلانٹ بریڈرز کے حقوق کا تحفظ کرے گی، قومی و بین الاقوامی بیج کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ایک شفاف اور مسابقتی بیج مارکیٹ قائم کرنے میں مدد دے گی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ہمارے کسان کو ہوگا، جسے معیاری اور تصدیق شدہ بیج پر مکمل اعتماد حاصل ہوگا۔

انہوں نے حکومت پنجاب کے وژن کے مطابق سیکرٹری زراعت پنجاب کایہ پیغام پڑھ کر سنایا کہ پالیسیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کی حقیقی کامیابی ان پر مؤثر عمل درآمد میں مضمر ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، نیبجی، نیاب، نگاب، ہماری جامعات، زرعی توسیعی نظام، ریگولیٹری ادارے اور نجی شعبہ مشترکہ وژن اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ہمارے سائنس دان نئی اور بہتر اقسام کی تیاری جاری رکھیں، جامعات مستقبل کے محققین تیار کریں، زرعی توسیعی خدمات نئی ٹیکنالوجی کو بروقت کسانوں تک پہنچائیں، ریگولیٹری ادارے معیار اور شفافیت کو یقینی بنائیں اور نجی شعبہ تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی کے عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی آرا کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ایسی قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جا سکیں جو زرعی پیداوار میں اضافے، فوڈ سیکورٹی اور کسانوں کی خوشحالی میں معاون ثابت ہوں۔

پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، چئیرمین نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی نے اس امر پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے معیاری بیج، جدید بایوٹیکنالوجی، تحقیق پر مبنی پالیسی سازی اور مؤثر ریگولیٹری نظام ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی بیج اور زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی 2025 زرعی تحقیق، نجی و سرکاری شعبے کے اشتراک، جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ اور کسانوں کو بہتر پیداواری وسائل کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے پبلک و پرائیویٹ سیکٹرز کے تحقیقی اداروں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جدید زرعی تحقیق، بایوٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی استعداد کار میں اضافہ مستقبل کی زرعی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔اس موقع پر گرین پاکستان انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر بریگیڈئیر طلحہ افتاب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کی ترقی، معیاری بیجوں کی دستیابی، جدید بایوٹیکنالوجی کے فروغ اور تحقیق و اختراع کی حوصلہ افزائی کے لیے جامع پالیسی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ اداروں، جامعات، تحقیقی مراکز اور نجی شعبے کے مابین مؤثر تعاون کے ذریعے ہی زرعی ترقی کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔اجلاس میں مختلف تحقیقی اداروں، جامعات، محکمہ زراعت، نجی شعبے اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ شرکا نے قومی بیج اور زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی 2025 کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے قومی غذائی تحفظ اور پائیدار زرعی ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشاورتی عمل سے حاصل ہونے والی سفارشات کو حتمی پالیسی کی تشکیل میں مؤثر انداز میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ فورمز تک پہنچایا جائے گا تاکہ قومی زرعی ترقی کے وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

اسکے علاوہ ڈاکٹرعرفان علی، ڈاکٹر شوکت علی ڈائریکٹرنگاب، ڈاکٹرقمر شکیل ممبر نسدرا اور ڈاکٹر ساجدالرحمن چیف سائنٹسٹ نے بھی اجلاس کے دوران خیالات کا اظہار کیا۔آخر میں ڈاکٹر ساجد الرحمن چیف سائنٹسٹ ایوب ریسرچ نے مہمان خصوصی کے ہمراہ محکمہ زراعت کی جانب سے ڈاکٹر آصف علی خان، چیئرمین نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی، ڈاکٹر اقرار احمد خان، ڈاکٹر عابد محمود، ڈاکٹر غلام مجتبیٰ، ڈاکٹر سعدیہ بشریٰ، ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر قمر شکیل، ڈاکٹر شوکت اور نبجی ونیاب کے تمام معزز سائنس دانوں، محققین، جامعات کے اساتذہ، زرعی توسیعی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں اور بالمشافہ و آن لائن شریک ہونے والے تمام شرکاء کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ آپ سب کی شرکت اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم پاکستان کے لیے ایک مضبوط، زیادہ پیداواری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی نظام تشکیل دیں۔