پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دورے کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈز کا اعلان کر دیا ہے۔
دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کیلئے قومی ٹیسٹ سکواڈ کا اعلان ، بابر اعظم کپتان مقرر

مزید خبریں
لاہور۔5جولائی (اے پی پی):پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دورے کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈز کا اعلان کر دیا ہے۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے اسد شفیق اور سابق کپتان مصباح الحق کے ہمراہ اسکواڈز کا اعلان کیا، بابر اعظم کو دونوں ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے16 رکنی جبکہ انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے17 رکنی اسکواڈ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل کو فٹنس سے مشروط طور پر انگلینڈ کے دورے کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، تاہم وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کا حصہ نہیں ہوں گے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف16 رکنی اسکواڈ میں بابر اعظم (کپتان)، عامر جمال، عبداللہ فضل، علی عثمان، اذان اویس، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد علی، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد اویس ظفر، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)، ساجد خان، سلمان علی آغا، شان مسعود اور عبید شاہ شامل ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف17 رکنی اسکواڈ میں ویسٹ انڈیز سیریز کے تمام کھلاڑیوں کے ساتھ سعود شکیل کو بھی فٹنس کلیئرنس سے مشروط طور پر شامل کیا گیا ہے۔ سلیکشن کمیٹی نے چار نئے کھلاڑیوں کو پہلی بار ٹیسٹ اسکواڈ میں موقع دیا ہے، جن میں بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان، دائیں ہاتھ کے بیٹر محمد اویس ظفر، دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر عبید شاہ اور وکٹ کیپر بیٹر محمد غازی غوری شامل ہیں۔ پاکستان ٹیم اپنے دورے کا آغاز ویسٹ انڈیز سے کرے گی، جہاں پہلا ٹیسٹ25 سے 29 جولائی تک برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹرابا میں جبکہ دوسرا ٹیسٹ 2 سے6 اگست تک کوئنز پارک اوول، پورٹ آف اسپین میں کھیلا جائے گا۔ اس کے بعد قومی ٹیم انگلینڈ کا رخ کرے گی، جہاں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ19 سے23 اگست تک لیڈز، دوسرا 27 سے31 اگست تک لارڈز اور تیسرا 9 سے13 ستمبر تک برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران عاقب جاوید نے کہا کہ وہ اور اسد شفیق گزشتہ18 ماہ سے سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہیں، جبکہ مصباح الحق اور سرفراز احمد کو کمیٹی میں شامل ہوئے چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے تینوں فارمیٹس کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ہر فارمیٹ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو الگ انداز سے جانچا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ٹیموں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔








