5 جولائی 1977 کا دن ملکی تاریخ میں ہمیشہ ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا ‘یومِ سیاہ’ پر پیغام
5 جولائی 1977 کا دن ملکی تاریخ میں ہمیشہ ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا ‘یومِ سیاہ’ پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جولائی (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ 5 جولائی 1977 کا دن ملکی تاریخ میں ہمیشہ ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب ملک کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی آئینی اور جمہوری حکومت پر شب خون مارا گیا۔ اتوار کواپنےخصوصی پیغام میں چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ 5جولائی کا اقدام صرف ایک حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ پاکستان کے آئین، وفاق اور جمہوری اداروں پر ایک کاری ضرب تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو 1973 کا متفقہ آئین دیا، جو ملک کی بقا اور سلامتی کی ضمانت ہےاور اسی آئین کو معطل کر کے ملک کو آمرانہ تاریکیوں میں دھکیل دیا گیا۔یوسف رضا گیلانی نے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے ہمیشہ جمہوریت کی بحالی کے لیے کوڑے کھائے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جانوں کے نذرانے دیئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کے دن ہمیں اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ پارلیمان کی بالادستی، آئین کی حاکمیت اور عوام کے ووٹ کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،جمہوریت پر شب خون مارنے والے کردار تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو چکے ہیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کا نام اور فلسفہ آج بھی کروڑوں عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی استحکام اور ترقی کا واحد راستہ مضبوط پارلیمان اور بلا تعطل جمہوری تسلسل میں پنہاں ہے، اور سینیٹ آف پاکستان وفاق کی مضبوطی اور آئینی بالادستی کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔








