بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، دریائے سندھ کے کنارے جنگلات اور لاکھوں لوگوں کے روزگار خطرات سے دوچار
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، دریائے سندھ کے کنارے جنگلات اور لاکھوں لوگوں کے روزگار خطرات سے دوچار

مزید خبریں
پشاور۔ 05 جولائی (اے پی پی):دریائے سندھ کنارے صدیوں پرانے جنگلات عرصہ دراز سے جنگلی حیات کی محفوظ مسکن ہیں جبکہ ماہی گیروں کا سہارا اور زرخیز زرعی زمینوں کے محافظ ہیں لیکن بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث پاکستان کے اس سب سے قیمتی ماحولیاتی خزانوں میں سے ایک کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہیں، سرحد پار پانی کے تعاون کےلیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ طریقہ کار کو برقرار رکھنا علاقائی امن، پائیدار ترقی اور سندھ طاس پر انحصار کرنے والے لاکھوں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہے، عالمی برادری تجارت سے بالاتر ہو کر فاشسٹ مودی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو بحال کرے جو خطے میں امن اور لاکھوں لوگوں کی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ماحولیات اور جنگلات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل رکھنے سے سندھ میں میٹھے پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے جس سے دریائے سندھ کے کنارے جنگلات اور مینگروو ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہو جائیں گے اور ان لاکھوں لوگوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا جن کا انحصار انڈس ڈیلٹا پر ہے۔بدین، ٹھٹہ، سجاول اور کراچی کے ساحلی اضلاع تک پھیلا ہوا انڈس ڈیلٹا تقریباً 270 کلومیٹر کے سمندری پٹی پر محیط ہے۔ اس کا منفرد ماحولیاتی نظام دریائے سندھ سے میٹھے پانی کی مستقل فراہمی پر منحصر ہے جو دریائی جنگلات، مینگرووز، ماہی گیری اور زراعت کو برقرار رکھنے کےلیے ناگزیر ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ دریا کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی طویل المدتی کمی ماحولیاتی تنزلی کو تیز کر سکتی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو شدید تر کر سکتی ہے۔
قومی خبر رساں ادارے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے سابق کنزرویٹر آف فارسٹس گلزار رحمان نے کہا کہ سندھ میں دریائی جنگلات ملک کے سب سے زیادہ پیداواری قدرتی ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک ہیں جو فاشسٹ مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث میٹھے پانی کی دستیابی میں کمی کی وجہ سے یہ تیزی سے خطرات کا شکار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگلات نہ صرف عمارتی لکڑی اور جلانے کی لکڑی کا ایک اہم ذریعہ ہیں بلکہ کاربن کو جذب کرنے والے بڑے ذخائر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، مقامی آب و ہوا کو معتدل رکھتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو تحفظ دیتے ہیں اور ماہی گیری، لائیو اسٹاک اور زراعت پر منحصر ہزاروں خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔سندھ طاس معاہدہ جس پر 1960 میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے عالمی بینک کے بطور ضامن دستخط کیے تھے، کے تحت مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو دیا گیا تھا جبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں راوی، ستلج اور بیاس پر حقوق حاصل ہوئے تھے۔ گلزار رحمان کے مطابق اس تاریخی معاہدے کے نفاذ میں کسی بھی قسم کے خلل کے براہِ راست ماحولیاتی اور معاشی نتائج نچلے علاقوں پر پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی خلاف ورزیوں سے دریائی جنگلات اور مینگروو کی قدرتی افزائشِ نسل میں نمایاں کمی واقع ہوگی، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کی ان کی صلاحیت کمزور ہوگی اور جنگلی حیات، مچھلیوں اور مہاجر پرندوں کے مسکن ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا محکمہ جنگلات تقریباً 241,198 ہیکٹر دریائی جنگلات کا انتظام سنبھالتا ہے جو ضلع ٹھٹہ، حیدرآباد، دادو، لاڑکانہ، نوشہرو فیروز، شہید بینظیر آباد، خیرپور، سکھر، شکارپور، گھوٹکی اور جیکب آباد میں دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان جنگلات کو فارسٹ ایکٹ 1927 کے تحت ‘محفوظ جنگلات’ قرار دیا گیا ہے۔
عمارتی لکڑی، جلانے کی لکڑی اور چرائی کے وسائل پیدا کرنے کے علاوہ یہ دریائی جنگلات بے شمار پودوں اور جانوروں کی اقسام کو مسکن فراہم کرتے ہیں، شہد کی پیداوار اور ماہی گیری کو سہارا دیتے ہیں، دریا کے کناروں کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں اور مون سون کے موسم میں سیلابی پانی کو آہستہ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ گلزار رحمان نے کہا کہ بھارتی خلاف ورزیوں سے یہاں پر قدرتی افزائشِ نسل دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے اور جنگلی حیات، ماہی گیری اور انسانوں کی آبادی متاثر ہو رہی ہے۔
ماحولیات کے سابق سیکرٹری اور وائلڈ لائف چیف کنزرویٹر ڈاکٹر ممتاز ملک نے کہا کہ گدو اور کوٹری بیراجوں تک میٹھے پانی کی کم رسائی کے انڈس ڈیلٹا کےلیے منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ جیسے ہی سمندری پانی زمین کے اندرونی حصوں کی طرف بڑھے گا، زرعی زمینیں بڑھتی ہوئی نمکیات اور سیم و تھور کا شکار ہو سکتی ہیں، جس سے فصلوں کی پیداوار کم ہو جائے گی اور ساحلی آبادیوں میں غذائی تحفظ خطرے میں پڑ جائے گا۔ میٹھے پانی کے بہاؤ کا کم ہونا اہم انواع کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے، بشمول خطرے سے دوچار دریائے سندھ کی انڈس ڈولفن جبکہ ان نازک مینگروو جنگلات پر اضافی دباؤ پڑے گا جو طوفانوں، ساحلی کٹاؤ اور سمندری لہروں کے خلاف قدرتی رکاوٹوں کا کام کرتے ہیں۔
انڈس ڈیلٹا میں رہنے والی آبادیاں اپنی بقا کے لیے بڑے پیمانے پر ماہی گیری، کھیتی باڑی اور مال مویشیوں پر انحصار کرتی ہیں۔ڈاکٹر ممتاز ملک نے خبردار کیا کہ مزید ماحولیاتی زوال پاکستان کے سب سے زیادہ کمزور خطوں میں سے ایک میں غربت کو گہرا کر سکتا ہے، نقل مکانی کا سبب بن سکتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے کیونکہ بھارت پاکستان میں بھوک اور افلاس کا راج قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔بھارتی حکومت کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ غیر قانونی قدم بین الاقوامی قانون کو کمزور کرتا ہے، علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے اور دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے پانی کی حفاظت پر سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی تک رسائی کو بین الاقوامی سطح پر ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ پانی کے وسائل کو محدود کرنے یا ان پر سیاست کرنے کی کسی بھی کوشش کے دور رس انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ مینگرووز کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں دریائی جنگلات کو بھی بھارتی خلاف ورزیوں سے خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ نے واضح طور پر پانی تک رسائی کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ کسی نچلے ساحلی ملک کے لیے دریا کے پانی کے بہاؤ کو محدود کرنا سنگین قانونی اور انسانی خدشات پیدا کرتا ہے کیونکہ یہ براہِ راست لاکھوں لوگوں کی زندگی، صحت اور مناسب معیارِ زندگی کے حقوق کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا بھارت کا بلا جواز فیصلہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، عالمی بینک کی ضمانت اور بین الاقوامی معاہدے کی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔
معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو استعمال کرنے کے بجائے بھارت نے پانی کے تعاون کو وسیع تر سیاسی اور سیکیورٹی تنازعات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے جس سے برصغیر کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ معاہدہ پہلے ہی دوطرفہ مذاکرات، غیر جانبدار ماہرین اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے اختلافات کو دور کرنے کے لیے جامع طریقہ کار پر مشتمل ہے۔ اس کو نظر انداز کرنا بین الاقوامی معاہدوں پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی معاہدوں کےلیے بھارت کی بے توقیری کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے وسائل پر پابندیاں کمزور آبادیوں، خاص طور پر خواتین، بچوں اور دیہی آبادیوں کو متاثر کرتی ہیں جن کا روزگار زیادہ تر زراعت، ماہی گیری، جنگلات، پانی اور مال مویشیوں پر منحصر ہے۔
بین الاقوامی قانون کے ماہر نعمان بخاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ پانی اور خوراک اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت عالمی طور پر لازمی انسانی ضروریات کے طور پر تسلیم شدہ ہیں اور انہیں کبھی بھی دوسروں کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کو معطل رکھنے کا بھارت کا اقدام اشتعال انگیز ہے اور اہم قانونی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت، معاہدے عام طور پر اس وقت تک نافذ رہتے ہیں جب تک کہ انہیں قانونی طور پر ختم نہ کیا جائے، باہمی اتفاق رائے سے معطل نہ کیا جائے یا تسلیم شدہ قانونی اصولوں کے مطابق مادی طور پر ان کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ وہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سیاسی بحرانوں اور فوجی تنازعات میں بھی قائم رہ سکے۔جامعہ پشاور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اسے کسی بھی فریق کی طرف سے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بین الاقوامی ثالثی عدالت کے حالیہ کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو معاہدے کے فریم ورک کے تحت دستیاب قانونی چارہ جوئی کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقل موقف رہا ہے کہ تنازعات کو یکطرفہ اقدامات اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بجائے معاہدے میں پہلے سے فراہم کردہ طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر اعجاز خان نے خبردار کیا کہ پانی کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں بین الاقوامی تعلقات میں خطرناک مثالیں قائم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک بالائی ساحلی ریاست یکطرفہ طور پر پانی کی شراکت کے انتظامات کو معطل کر سکتی ہے تو اس کے جنوبی ایشیا سے باہر بھی منفی اثرات ہو سکتے ہیں اور یہ ممکنہ طور پر دیگر بین الاقوامی دریاؤں کے تنازعات کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور بڑھتی ہوئی آبادی قائم شدہ پانی کی شراکت کے معاہدوں پر عمل پیرا ہونے کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بناتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے تعاون کے حوالے سے طویل غیر یقینی صورتحال زرعی پیداواری صلاحیت، دریائی جنگلات، غذائی تحفظ اور دیہی روزگار کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ماحولیاتی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں، بشمول میٹھے پانی کے بہاؤ میں کمی جو ویٹ لینڈز، مینگروو جنگلات، ماہی گیری اور حیاتیاتی تنوع کو متاثر کرتی ہے۔مختلف انواع جیسے کہ خطرے سے دوچار دریائے سندھ کی ڈولفن اور مقامی مہاشیر مچھلی کی آبادیاں دریا کے صحت مند ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے پر منحصر ہیں اور اگر دریا کا میٹھا پانی روک دیا گیا تو ان انواع کے معدوم ہونے کا قوی امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے بھارت کی جانب سے ڈیٹا شیئرنگ میں تاخیر، تکنیکی تعاون میں کمی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے پر طویل تنازعات کئی دہائیوں کے دوران معاہدے کے تحت قائم کیے گئے اعتماد سازی کے اقدامات کو کمزور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد تصادم نہیں بلکہ بین الاقوامی وعدوں کی تعمیل ہے۔ معاہدوں کا مقصد خاص طور پر سیاسی کشیدگی کے ادوار کے دوران یقین اور استحکام فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی پورے جنوبی ایشیا میں پانی کی قلت کو شدید تر کر رہی ہے، سرحد پار پانی کے تعاون کےلیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ طریقہ کار کو برقرار رکھنا علاقائی امن، پائیدار ترقی اور سندھ طاس پر انحصار کرنے والے لاکھوں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری تجارت سے بالاتر ہو کر سوچے گی اور فاشسٹ مودی حکومت پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو بحال کرے جو خطے میں امن اور لاکھوں لوگوں کی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ کی حفاظت نہ صرف جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کےلیے ضروری ہے بلکہ ان لاکھوں لوگوں کے معاشی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور ثقافتی ورثے کو بچانے کے لیے بھی ناگزیر ہے جن کی زندگیاں دریائے سندھ کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہیں۔








