خیبر پختونخوا میں تیز رفتار شہری آبادی، بہتر شہری سہولیات کی بڑھتی طلب سے ہاؤسنگ سیکٹر دباؤ کا شکار

خیبر پختونخوا میں تیز رفتار شہری آبادی، بہتر شہری سہولیات کی بڑھتی طلب سے ہاؤسنگ سیکٹر دباؤ کا شکار

پشاور۔ 05 جولائی (اے پی پی):شدید گرمی کی لہر کے دوران خیبر پختونخوا کے شہری ناقص بلدیاتی سہولیات اور دیہی علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں جس کے باعث صوبے کے ہاؤسنگ سیکٹر پر اضافی دباؤ بڑھ گیا ہے۔آبادی میں سالانہ 2.9 فیصد اضافے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بجلی کی بندش، جائیدادوں کی بلند قیمتوں اور مہنگائی نے خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں میں کم آمدنی والے طبقے کےلیے تعلیم، صحت اور رہائش کے مسائل مزید سنگین کر دئیے ہیں جہاں بے گھر اور کمزور طبقات کی ضروریات پوری کرنے کےلیے تقریباً 25 لاکھ گھروں کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی آبادی رواں سال 24 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جس کے باعث خیبر پختونخوا میں کم لاگت رہائش کی طلب غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ اگر موجودہ شرحِ نمو برقرار رہی تو آئندہ 14 برسوں میں صوبے کو مزید 25 لاکھ رہائشی یونٹس درکار ہوں گے۔ کم لاگت رہائش کا بحران خاص طور پر تنخواہ دار طبقے، پنشنرز اور محروم طبقات کےلیے شدید ہو چکا ہے جو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گھروں کی خریداری سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

روزگار کے محدود مواقع، زمین کی بڑھتی قیمتیں، غربت اور کمزور معاشی سرگرمیوں نے خیبر پختونخوا میں اپنے گھر کا خواب لاکھوں خاندانوں کےلیے ایک مشکل حقیقت بنا دیا ہے۔حکومتی معاشی اقدامات کے باوجود صوبے میں رہائشی قلت کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکام اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ ہیں مگر ناکافی انفراسٹرکچر، بے روزگاری اور محدود مالی وسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔پشاور کے ریٹائرڈ سرکاری ملازم مثال خان نے قومی خبر رساں ادارے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرایہ بڑھ جاتا ہے جبکہ میری پنشن وہی رہتی ہے، مہنگائی اور زمین کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اپنا گھر خریدنے کے لیے بچت کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

ان کی طرح بہت سے خاندان تنگ گھروں میں رہنے یا سستی رہائش کےلیے طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور ہیں۔ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے پروفیسر ڈاکٹر نوید فاروق نے کہا کہ سستی رہائش ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر تیزی سے بڑھتی آبادی، دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب ہجرت، تعمیراتی اخراجات اور زمین کی قیمتوں میں اضافے نے رہائشی قلت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک نے شہروں کے مضافات میں کم لاگت رہائش فراہم کرنے کی پالیسی اختیار کی لیکن اس سے لوگ روزگار، سماجی روابط اور بنیادی سہولیات سے دور ہو گئے۔ ان کے مطابق کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں یہی صورتحال کچی آبادیوں کے پھیلاؤ کا باعث بنی کیونکہ حکومتیں بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے مطابق انفراسٹرکچر، سڑکیں اور بنیادی خدمات فراہم نہیں کر سکیں۔

ڈاکٹر نوید فاروق نے کہا کہ حکومتوں کی بار بار تبدیلی، سیاسی عدم استحکام اور زمین و جائیداد کی قیمتوں میں بے قابو اضافے نے خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں میں تنخواہ دار اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھر کا حصول خواب بنا دیا ہے۔ اس حوالے سے مؤثر اور مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اراضی پر تیزی سے شہری آبادیاں قائم ہونے کے باعث پشاور، مردان، ایبٹ آباد، سوات، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور نوشہرہ سمیت کئی اضلاع میں بغیر منصوبہ کے ہاؤسنگ سوسائٹیاں وجود میں آ رہی ہیں۔

ان کے مطابق اس وقت ملک میں سالانہ 6 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت ہے جبکہ موجودہ ایک کروڑ گھروں کی کمی آئندہ 14 برس میں ختم کرنے کےلیے ہر سال تقریباً 11 لاکھ گھروں کی تعمیر ضروری ہوگی۔ شہری آبادی کا تقریباً نصف حصہ گنجان یا غیر رسمی آبادیوں میں رہتا ہے جہاں بنیادی سہولیات میسر نہیں، جبکہ باقاعدہ رہائش غریب طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔پشاور میں شہری آبادی 19 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ چکی ہے جو 2030 تک 28 لاکھ ہونے کی توقع ہے جس سے مزید زرعی اراضی متاثر ہوگی۔ رہائشی قلت کے باعث پشاور میں پانچ مرلہ گھر کی قیمت ایک کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ماہانہ کرایہ 40 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے جو عام شہری اور کم تنخواہ والے ملازمین کی استطاعت سے باہر ہے۔

سابق صوبائی وزیر ماحولیات واجد علی نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی سابق حکومت نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا لیکن اسے پورا نہ کر سکی جس کے باعث ہاؤسنگ بحران اور جائیدادوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے کم لاگت رہائش کے فروغ کے لیے مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم متعارف کرائی ہے جس سے خیبر پختونخوا کے شہری بھی مستفید ہوں گے۔ اس اسکیم کے تحت مکان، فلیٹ، پلاٹ کی خریداری اور ذاتی زمین پر گھر کی تعمیر کے لیے قرضے دئیے جائیں گے۔ 10 مرلہ یا 1500 مربع فٹ تک کے گھر یا فلیٹ کےلیے ایک کروڑ روپے تک قرض فراہم کیا جائے گا جس پر صارف کو 5 فیصد مقررہ مارک اپ ادا کرنا ہوگا۔

قرض کی واپسی 20 سال میں قسطوں کے ذریعے ہوگی جبکہ پہلے 10 سال تک حکومت مارک اپ سبسڈی فراہم کرے گی۔ صارفین سے پروسیسنگ فیس یا قبل از وقت ادائیگی پر کوئی جرمانہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ قرض 90:10 لون ٹو ویلیو کی بنیاد پر دیا جائے گا، یعنی درخواست گزار کو صرف 10 فیصد اپنی طرف سے فراہم کرنا ہوگا جبکہ حکومت بقایا قرض پر 10 فیصد رسک کور بھی دے گی۔ اس اسکیم میں تمام کمرشل بینک، اسلامی بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ شریک مالیاتی ادارے ہوں گے۔

صوبائی ہاؤسنگ اتھارٹی کے حکام نے اے پی پی کو بتایا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت کیے گئے سروے کے مطابق ملک بھر میں فوری طور پر 50 لاکھ پانچ مرلہ گھروں کی ضرورت ہے، جن میں سے 7 لاکھ 50 ہزار خیبر پختونخوا میں درکار ہیں۔ ان گھروں کی تعمیر کے لیے صوبے میں تقریباً 2 لاکھ 62 ہزار 500 کنال زمین درکار ہوگی۔ سروے کے مطابق پشاور میں1,04,897 گھر، مردان 58,309، سوات 65,749، ڈیرہ اسماعیل خان 39,981، صوابی 39,919، چارسدہ 39,712، مانسہرہ، 38,244، نوشہرہ 37,313، لوئر دیر 35,282، ایبٹ آباد 32,751، بنوں 28,697، ہری پور 24,646، کوہاٹ 24,421، اپر دیر 23,255، بونیر 20,048، لکی مروت 21,529، کوہستان 19,281، شانگلہ 18,620، ملاکنڈ 17,699، کرک 17,355، ہنگو 17,748، بٹگرام 11,711، چترال 10,992، ٹانک 9,629 اور تورغر میں 4,211 گھر درکار ہیں۔

حکام کے مطابق پشاور، نوشہرہ، ہنگو، سوات، چارسدہ اور دیگر اضلاع میں متعدد کم لاگت ہاؤسنگ منصوبے جاری ہیں جن میں ہزاروں رہائشی یونٹس اور فلیٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ جلوزئی، نشترآباد، رحمان بابا کمپلیکس، سریزئی، دانی گرام سوات، جرمہ کوہاٹ، حیات آباد، شاہی بالا اور دیگر منصوبوں سے ہزاروں غریب اور کم آمدنی والے خاندان مستفید ہوں گے۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے متعدد مراعات دی گئی ہیں۔ خریدار پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد جبکہ فروخت کنندہ پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح فنانس بل 2026 کی شق 7E ختم کر دی گئی ہے جس کے تحت غیر استعمال شدہ یا اضافی غیر منقولہ جائیداد پر تصوراتی آمدنی کی بنیاد پر ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔ بیرون ملک جائیدادوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے جبکہ وراثت میں ملنے والی جائیداد پر کیپیٹل گین ٹیکس کے حساب کا طریقہ بھی تبدیل کیا گیا ہے تاکہ ورثا پر ٹیکس کا بوجھ کم ہو۔ حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات حکومت کے اس وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد خیبر پختونخوا کے ہر شہری کو مناسب اور کم لاگت رہائش فراہم کرنا ہے۔

مزید خبریں