میں نہیں چاہتی کہ یہ میرا آخری ورلڈ کپ ہو، انگلش کپتان نیٹ سائیور برنٹ کی خواہش، ٹیم میں تبدیلیوں کا عندیہ

انگلینڈ کی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان نیٹ سیور برنٹ نے لارڈز کے تاریخی میدان پر آسٹریلیا کے خلاف ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل میں شکست کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ یہ ان کے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ نہیں ہوگا۔

لندن۔6جولائی (اے پی پی):انگلینڈ کی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان نیٹ سیور برنٹ نے لارڈز کے تاریخی میدان پر آسٹریلیا کے خلاف ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل میں شکست کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ یہ ان کے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ نہیں ہوگا۔ سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق آسٹریلیا نے فائنل میں انگلینڈ کو یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر 7 ویں بار ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ میچ کے بعد جذباتی گفتگو کرتے ہوئے 2017 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی فاتح کھلاڑی نیٹ سیور برنٹ کا کہنا تھا کہ فیملی ہی سب کچھ ہے اور وہ فی الحال روز مرہ کی بنیاد پر زندگی گزار رہی ہیں، لیکن وہ اس ٹورنامنٹ کو اپنا آخری ورلڈ کپ نہیں بنانا چاہتیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ پنڈلی کی انجری کے باوجود ٹورنامنٹ میں کھیلیں اور سیمی فائنل اور فائنل میں نصف سنچریاں سکور کیں، جس پر انہیں فخر ہے۔

فائنل میں 53 گیندوں پر 58 رنز کی سست اننگز کھیلنے کے سوال پر انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ زیادہ بہتر سٹرائیک ریٹ سے کھیل سکتی تھیں، تاہم انہوں نے اننگز کے دوران خود سے ریٹائرڈ آؤٹ ہونے کی سوچ کو یکسر مسترد کر دیا۔ دوسری جانب انگلش ہیڈ کوچ شارلٹ ایڈورڈز نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اشارہ دیا کہ آسٹریلیا کے ساتھ فرق کو ختم کرنے کے لئےموسم گرما کے اختتام پر ٹیم میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور کیا جائے گا، کیونکہ نوجوان کھلاڑی اپنی جگہ بنانے کے لیے اپنی عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر مضبوط دعوے پیش کر رہی ہیں، جبکہ تجربہ کار کھلاڑیوں نے بھی اس ورلڈ کپ میں عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا ہے ۔35 سالہ ہیدر نائٹ اور ڈینی وائٹ ہوج جیسے سینئر کھلاڑیوں کے مستقبل اور ٹیم کی ساخت کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔

مزید خبریں