عوامی مفاد میں اراضی حاصل کرنا ریاست کا اختیار، مگر مکمل، منصفانہ اور حقیقی معاوضہ دینا آئینی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ

عوامی مفاد میں اراضی حاصل کرنا ریاست کا اختیار، مگر مکمل، منصفانہ اور حقیقی معاوضہ دینا آئینی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ریاست عوامی مفاد میں اراضی حاصل کرنے کا اختیار رکھتی ہے تاہم متاثرہ شہریوں کو مکمل، منصفانہ اور حقیقی معاوضہ دینا آئین کے تحت ریاست کی لازمی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اراضی کی قیمت کا تعین صرف سرکاری ریٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال اور مستقبل میں اس کی ترقی کے امکانات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے صوابی میں نہری منصوبے کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق کیس میں 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں خیبرپختونخوا حکومت کی تمام سول اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور ریفرنس کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا گیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر اراضی کے حصول کے عمل میں غیر معمولی تاخیر ہو تو اس دوران زمین کی قیمت میں اضافے اور افراطِ زر کے اثرات کو بھی معاوضے کے تعین میں شامل کیا جانا چاہئے تاکہ متاثرہ شہری کو حقیقی مالی انصاف فراہم کیا جا سکے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس اصول کو بھی دہرایا کہ اراضی کے معاوضے کا اصول سونے کے بدلے سونا، تانبا نہیں ہونا چاہئے یعنی زمین کے مالک کو ایسا معاوضہ ملنا چاہئے جو اس کے نقصان کا مکمل ازالہ کر سکے۔عدالت کے مطابق زمین کے حصول کا مقصد اگرچہ عوامی مفاد ہوتا ہے لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے کسی شہری کو غیر منصفانہ مالی نقصان پہنچانا آئین اور قانون کی روح کے منافی ہے۔ اس لئے معاوضے کا تعین زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو، اس کی نوعیت، مستقبل کی افادیت اور دیگر متعلقہ عوامل کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہئے۔

کیس کے مطابق صوابی میں نہری منصوبے کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان نے سرکاری طور پر مقرر کردہ معاوضے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ریفرنس کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ریفرنس کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر معاوضے میں اضافہ کیا جسے بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ خیبرپختونخوا حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تاہم عدالتِ عظمیٰ نے حکومت کے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں اور زمین مالکان کے حق میں دیئے گئے فیصلوں کو برقرار رکھا۔