گورنر خیبرپختونخوا سے نور رحمان داوڑ کی قیادت میں شمالی وزیرستان کے عمائدین کے ایک جرگے کی ملاقات

گورنر خیبرپختونخوا سے نور رحمان داوڑ کی قیادت میں شمالی وزیرستان کے عمائدین کے ایک جرگے کی ملاقات

پشاور۔ 06 جولائی (اے پی پی):پشاور:گورنر خیبرپختونخوا سے نور رحمان داوڑ کی قیادت میں شمالی وزیرستان کے عمائدین کے ایک جرگے نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔گورنر ہاؤس پشاور تر جمان کے مطابق ملاقات میں ضم شدہ اضلاع، بالخصوص شمالی وزیرستان، میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں، عوامی مسائل اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع، خصوصاً وزیرستان، میں پائیدار امن اور ترقی ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان ان کا اپنا علاقہ ہے اور گورنر ہاؤس کے دروازے قبائلی عوام کے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے ملک کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز نے بھی لازوال قربانیاں دے کر علاقے میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ضم شدہ اضلاع میں پائیدار امن، ترقی اور بہتر عوامی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ گورنر نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے مسائل باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے حل کیے جائیں تاکہ ان علاقوں میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد تمام اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کو شفاف اور مؤثر انداز میں عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ 100 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت تین فیصد حصہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کی ترقی پر صرف ہونا چاہیے اور ان فنڈز کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ گورنر نے سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں سے متعلق مسائل، بجلی کے بلند نرخوں اور سستی بجلی کی فراہمی کے لیے ڈیموں کی تعمیر کو ناگزیر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا معدنیات، تیل، گیس اور سیاحت کے وسیع وسائل سے مالا مال ہے، تاہم ان شعبوں سے عوام کو بھرپور فائدہ پہنچانے کے لیے جامع حکمتِ عملی اور مؤثر منصوبہ بندی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے نادرا کے سہولت مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، سی این جی کی فراہمی اور گندم کی قلت جیسے مسائل ماضی میں سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت اور تعاون سے حل کیے گئے تھے۔

اس موقع پر جرگے کے ارکان نے وزیرستان میں عوامی مسائل سے گورنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے گورنر ان کے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں۔ جرگے کے ارکان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قبائلی عوام محبِ وطن ہیں اور ملک کے لیے ان کی بے مثال قربانیوں کے پیش نظر ان کے دیرینہ مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

مزید خبریں